پاکستان کے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ محمد اسحاق ڈار نے مشترکہ آبی وسائل کو سیاسی مقاصد اور انہیں دوسرے ممالک کے خلاف ’ہتھیار‘ کے طور پر استعمال کرنے کے رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور عالمی برادری کو اس طرز عمل کی سنگینی اورخطرے سے آگاہ کیا ہے۔
جمعرات کو وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اس جانب عالمی برادری کی توجہ برسلز میں منعقدہ ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ’ٹرانسباؤنڈری واٹر ریسورسز: ویپونائزڈ گلوبل کامن (سرحد پار آبی وسائل: عالمی سطح پر بطور ہتھیار استعمال ہوتا ہوا خطرہ) سےاپنے کلیدی خطاب میں دلائی۔ اس کانفرنس میں ماحولیاتی تبدیلی، پانی کے انتظام اور بین الاقوامی قانون کے نامور عالمی ماہرین شریک تھے۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ پاکستان کی بقا، خودمختاری اور آبی سلامتی کی ضمانت قرار
نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ پانی انسانی بقا اور وقار کا معاملہ ہے، اسے کسی بھی ملک کے خلاف دباؤ یا جبر کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
پانی تنازع نہیں، امن کا ذریعہ بننا چاہیے
اپنے خطاب میں اسحاق ڈار نے سابق اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان کے تاریخی مؤقف کا حوالہ دیا کہ پانی کے بحران اکثر قلت سے زیادہ انتظامی اور حکمرانی کے مسائل کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
Keynote Address by Deputy Prime Minister/Foreign Minister Senator Mohammad Ishaq Dar at the Brussels Conference on “Transboundary Water Resources: A Weaponised Global Common”
18 June, 2026 pic.twitter.com/8DDVt0USxk— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 18, 2026
انہوں نے کہا کہ ’مشترکہ آبی وسائل اگر باہمی اعتماد اور طے شدہ فریم ورک کے تحت چلائے جائیں تو وہ علاقائی امن کا ذریعہ بنتے ہیں، لیکن اگر انہیں یکطرفہ اقدامات کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ شدید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں‘۔
سندھ طاس معاہدے کی اہمیت اور بھارتی ’آبی بالادستی‘ پر تشویش
وزیرِ خارجہ نے پاکستان کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین سے وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے ‘سندھ طاس معاہدے’ کو جنوبی ایشیا میں پانی کی تقسیم کا ایک تاریخی اور مؤثر فریم ورک قرار دیا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 1960 میں طے پانے والا یہ معاہدہ 3 جنگوں اور کئی سیاسی بحرانوں کے باوجود برقرار رہا۔
تاہم اسحاق ڈار نے بھارت کے یکطرفہ اقدامات پر گہرے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مختلف ڈیموں، ذخائرِ آب اور دریاؤں کے بہاؤ میں تبدیلی کے منصوبوں کے ذریعے بھارت خطے میں ’ہائیڈرو ہیجمنی‘ (آبی بالادستی) قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو کہ معاہدے کی روح کے سراسر منافی ہے۔
24 کروڑ پاکستانیوں کی بقا کا مسئلہ
سندھ طاس کے تاریخی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ کا نظام صرف پانی کا ذریعہ نہیں بلکہ پاکستان کی تہذیبی، تاریخی اور معاشی شناخت کا بنیادی ستون ہے۔
دنیا کی قدیم ترین ’وادیٔ سندھ کی تہذیب‘ اسی خطے میں پروان چڑھی اور آج بھی پاکستان کی زراعت اور معیشت کا انحصار انہی دریاؤں پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے اثرات 24 کروڑ سے زیادہ پاکستانیوں پر پڑ سکتے ہیں جسے ہرگز تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
ماحولیاتی تبدیلی اور عالمی برادری سے اپیل
نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے عالمی برادری کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، حالانکہ عالمی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اس کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔
مزید پڑھیں:سندھ طاس معاہدہ: اقوامِ متحدہ کے سوالات پر بھارت کی طویل خاموشی پر عالمی اور قانونی حلقوں کی تشویش
انہوں نے یورپ میں سرحد پار آبی وسائل کے کامیاب انتظام کی مثالیں دیتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی کہ بین الاقوامی معاہدوں کا احترام ہی عالمی نظام کی بنیاد ہے اور اسی اصول پر کاربند رہنا ہوگا۔
سفارت کاری اور مذاکرات پر یقین
اپنے خطاب کے اختتام پر نائب وزیرِ اعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان تمام تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری، مذاکرات اور بین الاقوامی قانونی فورمز پر یقین رکھتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ آج کی دنیا کو اس بات کا اعادہ کرنا ہوگا کہ مشترکہ دریا اور آبی وسائل ممالک کو تقسیم کرنے کے بجائے ایک دوسرے کے قریب لانے کا ذریعہ بنیں اور سرحد پار پانی کے انتظام میں تعاون، نہ کہ جبر، بنیادی اصول ہونا چاہیے۔














