پاکستان اپنے قیام کے بعد سے ہی جغرافیائی محلِ وقوع کے باعث عالمی سیاست میں ایک اہم حیثیت رکھتا آیا ہے۔ ایک جانب اس کی سرحد افغانستان، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے ملتی ہے، جبکہ دوسری جانب بحیرۂ عرب تک رسائی اسے خطے میں غیر معمولی تزویراتی اہمیت عطا کرتی ہے۔ چین، روس اور بھارت جیسے بڑے علاقائی کھلاڑیوں کے درمیان واقع ہونے کے باعث پاکستان متعدد مواقع پر عالمی سفارت کاری اور بین الاقوامی سیاست کا مرکز رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کیجانب سے امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط، پاکستان ثالث اور ضامن قرار
تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کئی اہم عالمی معاہدات کا حصہ بھی بنا۔ 1954ء میں جنوب مشرقی ایشیا میں کمیونزم کے پھیلاؤ کو روکنے کے مقصد سے قائم ہونے والے سیٹو اور بعد ازاں سینٹو معاہدوں میں پاکستان نے امریکا، برطانیہ، فرانس، فلپائن، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور تھائی لینڈ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ شمولیت اختیار کی۔ ان معاہدوں نے پاکستان کو ابتدا ہی سے مغربی بلاک کا اہم اتحادی بنا دیا۔
اگرچہ وقت گزرنے کے ساتھ اس فیصلے پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید بھی کی جاتی رہی تاہم اس کے نتیجے میں پاکستان کو جدید دفاعی سازوسامان، عسکری تعاون اور مغربی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے کا موقع ملا جبکہ پاکستان نے بھی خود کو مغربی اتحاد کے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر منوایا۔
ذیل میں ہم ان اہم عالمی معاہدات کا جائزہ پیش کرتے ہیں جن میں پاکستان نے کسی نہ کسی شکل میں نمایاں سفارتی کردار ادا کیا یا جن کی کامیابی میں اس کی کوششیں فیصلہ کن ثابت ہوئیں۔ ان میں 1971 امریکا چین سفارتی تعلقات، 1974 اِسلامی سربراہی کانفرنس لاہور، 1988 سویت انخلاء جنیوا معاہدہ، 2020 دوحہ معاہدہ اور 2026 ایران امریکا جنگ بندی معاہدہ شامل ہیں۔
1971: امریکا اور چین کے سفارتی تعلقات کی بحالی
1971 میں پاکستان نے امریکا اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے لیے ایسا پل کا کردار ادا کیا جس نے دنیا کی 2 بڑی طاقتوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اسی سلسلے میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر ہینری کیسنجر خفیہ طور پر پاکستان آئے اور اسلام آباد سے خاموشی کے ساتھ بیجنگ پہنچائے گئے، جس نے اُس وقت عالمی سفارتی حلقوں کو حیران کر دیا۔ اس سے قبل بھی پاکستان امریکا اور چین کے درمیان خفیہ سفارتی پیغامات کی ترسیل کا ذریعہ بنتا رہا تھا۔ اسی وجہ سے 1971 کی اس سفارتی کامیابی کو پاکستان کی تاریخ کا ایک بڑا ’سفارتی کُو‘ قرار دیا جاتا ہے۔
اس وقت امریکا اور چین کے سفارتی تعلقات تقریباً منقطع تھے اور دونوں ایک دوسرے کو اپنے اہم ترین حریف تصور کرتے تھے۔ ایسے ماحول میں پاکستان کے صدر جنرل یحییٰ خان نے ایک خفیہ سفارتی چینل کے طور پر کردار ادا کیا۔ امریکی صدر رچرڈ نکسن اور چینی وزیراعظم چو این لائی کے درمیان پیغامات پاکستان کے ذریعے منتقل ہوئے جبکہ جولائی 1971 میں ہینری کیسنجر کا اسلام آباد سے بیجنگ کا خفیہ دورہ بعد ازاں صدر نکسن کے تاریخی دورۂ چین کی بنیاد بنا۔
مزید پڑھیے: پاکستان کی ثالثی سے امریکا اور ایران کے درمیان 110 روزہ تنازع ختم، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط
ہینری کیسنجر نے بعد کے برسوں میں متعدد مواقع پر اعتراف کیا کہ پاکستان کی خفیہ سفارت کاری کے بغیر امریکا اور چین کے درمیان اعتماد کی بحالی ممکن نہ تھی۔ اس پیشرفت نے نہ صرف عالمی طاقتوں کے توازن کو تبدیل کیا بلکہ سرد جنگ کی سیاست کا رخ بھی بدل دیا۔
1974: اسلامی سربراہی کانفرنس، مسلم دنیا کا تاریخی اجتماع اور پاک بنگلہ دیش تعلقات کی بحالی
1974 میں اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی میزبانی میں لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد ہوئی۔ یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوا جب سقوطِ مشرقی پاکستان کو صرف تین برس گزرے تھے اور خطے کی سیاسی فضا ابھی تک اس سانحے کے اثرات سے باہر نہیں آئی تھی۔
کانفرنس میں سعودی عرب کے شاہ فیصل، لیبیا کے معمر قذافی، فلسطین کے یاسر عرفات، مصر کے صدر انور سادات سمیت اسلامی دنیا کے متعدد رہنماؤں نے شرکت کی جبکہ بنگلہ دیش کے بانی شیخ مجیب الرحمٰن کی شرکت نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات کی بحالی کی راہ ہموار کی۔
ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں مسلم دنیا کو پہلی مرتبہ ایک مؤثر پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا گیا۔ اس کانفرنس نے فلسطینی مسئلے کو اسلامی دنیا کے مشترکہ ایجنڈے کا حصہ بنانے، مسلم ممالک کے درمیان سیاسی تعاون کو فروغ دینے اور پاکستان کو عالمِ اسلام کی ایک مؤثر آواز کے طور پر منوانے میں اہم کردار ادا کیا۔ متعدد مورخین کے مطابق یہی وہ موقع تھا جب پاکستان نے خود کو صرف جنوبی ایشیا کی ریاست نہیں بلکہ پوری مسلم دنیا کے ایک اہم سفارتی مرکز کے طور پر منوایا۔
1988: جنیوا معاہدہ اور سوویت افواج کا افغانستان سے انخلا
1980 کی دہائی میں افغانستان سرد جنگ کا سب سے بڑا محاذ بن چکا تھا۔ سوویت یونین افغانستان میں موجود تھا جبکہ لاکھوں افغان مہاجرین پاکستان میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ کی سرپرستی میں کئی برس تک جاری رہنے والے مذاکرات میں پاکستان ایک مرکزی فریق کے طور پر شریک رہا۔
بالآخر 14 اپریل 1988 کو جنیوا معاہدے پر دستخط ہوئے جس میں پاکستان اور افغانستان براہِ راست فریق تھے جبکہ امریکا اور سوویت یونین ضامن ممالک کی حیثیت سے شامل ہوئے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں سوویت افواج کے انخلا کا شیڈول طے پایا اور فروری 1989 تک انخلا مکمل ہو گیا۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد مفاہمتی یادداشت: اسرائیل بے چین، جے ڈی وینس کی احترام کرنے کی تلقین
یہ پاکستان کی سفارتی تاریخ کا ایک اہم ترین باب تھا کیونکہ پہلی مرتبہ کسی سپر پاور کی جنگ کے خاتمے کے عمل میں پاکستان مرکزی مذاکراتی فریق کے طور پر موجود تھا۔
2020: دوحہ معاہدہ اور امریکی افواج کا انخلا
2020 کا دوحہ معاہدہ افغانستان میں تقریباً 2 دہائیوں سے جاری جنگ کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیشرفت تھا، جس کے تحت امریکا اور طالبان کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے نتیجے میں امریکی افواج کے انخلا کا فریم ورک طے پایا۔
اگرچہ پاکستان اس معاہدے کا باضابطہ دستخط کنندہ نہیں تھا، تاہم عملی طور پر اس نے انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ اسلام آباد نے نہ صرف امریکا اور طالبان کے درمیان بالواسطہ رابطوں کو ممکن بنایا بلکہ افغان مفاہمتی عمل کے مختلف مراحل میں مذاکرات کے لیے سازگار ماحول برقرار رکھنے میں بھی معاونت کی۔
یہ بھی پڑھیے: دستخط شدہ ایران، امریکا ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کے شق وار مندرجات سامنے آگئے
پاکستان کی اس پالیسی کی بنیاد یہ تھی کہ افغانستان میں دیرپا امن پورے خطے کے استحکام کے لیے ناگزیر ہے اور کسی بھی سیاسی حل کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کے درمیان مسلسل رابطہ ضروری ہے۔ اسی لیے متعدد بین الاقوامی اور علاقائی تجزیہ کار پاکستان کو اس امن عمل کا ایک اہم محرک قرار دیتے ہیں، جس نے براہ راست دستخطی فریق نہ ہونے کے باوجود مذاکرات کے دروازے کھلے رکھنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
2026: ایران امریکا جنگ بندی معاہدہ
12 جون 2025 کو اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد خطے میں کشیدگی انتہائی خطرناک سطح تک پہنچ گئی۔ اس بحران کے دوران 18 جون کو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی جہاں صدر ٹرمپ نے ان کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔
اس ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ پاکستان ایران کو بہت سے دوسرے ممالک بلکہ ہم سے بھی بہتر جانتا ہے’۔
بعد ازاں 28 فروری 2026 کو اسرائیل اور امریکا نے ایک مرتبہ پھر ایران پر حملہ کیا، تاہم اس بار یورپی ممالک اس کارروائی کا حصہ نہیں بنے۔ غزہ میں جاری جنگ اور انسانی بحران کے باعث عالمی رائے عامہ بڑی حد تک اسرائیل کے خلاف ہو چکی تھی جبکہ امریکا کے اندر بھی ایران کے خلاف جنگ پر صدر ٹرمپ کو شدید سیاسی دباؤ کا سامنا تھا۔
طویل ہوتی جنگ نہ صرف امریکا، ایران اور اسرائیل بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہی تھی جبکہ عالمی سطح پر توانائی کا بحران بھی شدت اختیار کر گیا تھا۔ ایسے نازک مرحلے پر پاکستان نے ایک مرتبہ پھر فعال سفارتی کردار ادا کیا۔
بالآخر صدر ٹرمپ کے اُس بیان کے تقریباً ایک سال بعد، 18 جون 2026 کو پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے تاریخی معاہدے میں ثالث کے طور پر کردار ادا کیا اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (اسلام آباد میمورینڈم آف انڈرسٹینڈنگ) پر بطور ثالث دستخط کیے جس کے بعد جنگ بندی پر عمل درآمد شروع ہوا۔













