وزیر اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے معاہدے اور اس میں پاکستان کے کلیدی کردار پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج پاکستان کی عزت و وقار پوری دنیا میں بلند ہے اور بھارت سمیت دنیا بھر میں پاکستان کا نام گونج رہا ہے۔
PM Shehbaz Sharif addresses National Assembly session https://t.co/GewFsMgBDs
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) June 19, 2026
قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو غیر معمولی عزت و وقار سے نوازا ہے، اور یہ اعزاز اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک نے عالمی سطح پر سفارتی محاذ پر نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مفاہمتی معاہدے میں پاکستان نے جس ثالثی اور سہولت کاری کا کردار ادا کیا ہے وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ ان کے مطابق پاکستان نے نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کیا بلکہ عالمی امن کے لیے بھی عملی اقدامات کیے۔
وزیراعظم نے کہا کہ دنیا کے مختلف خطوں، خصوصاً جاپان سے لے کر سعودی عرب تک اور مشرق سے لے کر بھارت سمیت پوری دنیا میں آج پاکستان کا نام احترام کے ساتھ لیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ لمحہ پاکستانی قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔
یہ بھی پڑھیں:’اسلام آباد امن معاہدہ‘ کے خیرمقدمی بینرز، پاکستان کے سفارتی کردار کو خراجِ تحسین
انہوں نے مزید کہا کہ اقوامِ عالم میں کسی ملک کو اس طرح کی سفارتی پذیرائی صدیوں بعد نصیب ہوتی ہے، مگر پاکستان نے مختصر وقت میں یہ مقام حاصل کیا ہے۔ وزیراعظم نے اس پیشرفت کو پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ قرار دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان آئندہ بھی امن، مکالمے اور خطے میں استحکام کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ معاہدے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا اور اسے قومی سطح پر قابلِ فخر پیشرفت قرار دیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے جو عزت اور وقار عطا کیا ہے، اس پر پوری قوم کو شکر ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ سفارتی کوششوں کے نتیجے میں پاکستان نے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے، جو قومی وحدت اور اجتماعی محنت کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ پورا عمل آسان نہیں تھا اور اس دوران کئی ایسے مراحل آئے جب معاملات تعطل کا شکار محسوس ہوئے، تاہم مسلسل رابطوں، سنجیدہ مذاکرات اور خلوصِ نیت کے ساتھ کوششیں جاری رکھی گئیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس پیشرفت میں مختلف سیاسی و ریاستی اداروں نے مل کر کردار ادا کیا، جس کی وجہ سے ایک بڑی سفارتی کامیابی ممکن ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل میں نہ صرف حکومت بلکہ تمام متعلقہ حلقوں نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا۔
Addressing the National Assembly, Prime Minister Shehbaz Sharif said Pakistan's diplomatic efforts have earned global recognition and widespread international appreciation. He highlighted the country's growing stature on the world stage and praised Field Marshal Syed Asim Munir… pic.twitter.com/nk9Be13gEd
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) June 19, 2026
انہوں نے اپنے خطاب میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان آئندہ بھی خطے میں امن، استحکام اور سفارتی توازن کے لیے مثبت اور فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔
قومی اسمبلی میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ایوان کو آگاہ کیا کہ ان کی ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک گفتگو ہوئی، جس میں خطے کی صورتحال، پاکستان کے کردار اور دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ ان کی ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے تقریباً آدھے گھنٹے طویل گفتگو ہوئی، جس میں ایرانی صدر نے مشکل وقت میں پاکستان کے بھرپور تعاون اور یکجہتی پر شکریہ ادا کیا۔ ایرانی صدر نے کہا کہ پاکستان نے اس نازک صورتحال میں ایران کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہو کر اہم کردار ادا کیا۔
یہ بھی پڑھیں:ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ کروا کر پاکستان نے دنیا کو کتنے بڑے نقصان سے بچایا ہے؟
وزیراعظم کے مطابق ایرانی صدر نے پاکستانی قوم کا بھی خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا اور اس بات کو سراہا کہ پاکستان نے خلوص اور سفارتی ذمہ داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے ایرانی صدر کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی، جس پر ایرانی صدر نے جلد پاکستان آنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ وہ پاکستانی عوام کا خود آ کر شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گفتگو میں ایران کے اعلیٰ رہنما علی خامنائی کا بھی ذکر ہوا، اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات اور باہمی احترام کو اجاگر کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور ایران برادر اسلامی ممالک ہیں جن کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان خطے میں امن، سفارتکاری اور برادرانہ تعلقات کے فروغ کے لیے اپنا کردار آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ جاری رکھے گا۔
جنگ بندی کے بعد معاشی بہتری اور تیل کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ خطے میں جنگ بندی کے بعد معاشی حالات میں بہتری آ رہی ہے، تیل کی قیمتوں میں کمی شروع ہو چکی ہے اور مستقبل میں مزید ریلیف کی توقع ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان شاءاللہ آئندہ آنے والے وقتوں میں پاکستان خطے کے ممالک کے ساتھ مزید قریبی تعاون کے ذریعے معاشی خوشحالی کی طرف بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے بعد خطے میں استحکام کی فضا قائم ہوئی ہے جس کے مثبت اثرات معیشت پر ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے 48 گھنٹوں میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں واضح کمی دیکھی گئی ہے اور توقع ہے کہ یہ رجحان آئندہ بھی جاری رہے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب خطے میں کشیدگی بڑھی تھی تو تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا تھا جس کے اثرات پاکستان سمیت پوری دنیا پر پڑے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اس دوران حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے اور تقریباً 128 ارب روپے کے مالی اقدامات کے ذریعے مہنگائی کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ عوام پر بوجھ کم سے کم ہو۔
انہوں نے کہا کہ اب وہ مشکل دور ختم ہونے کے قریب ہے اور معاشی بہتری کی نئی صبح طلوع ہو رہی ہے۔ وزیراعظم نے اعلان کیا کہ ہفتہ وار بنیادوں پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیا جائے گا اور وعدے کے مطابق جب بھی قیمتوں میں کمی آئے گی تو اس کا فائدہ براہِ راست عوام کو منتقل کیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر تمام صوبائی وزرائے اعلیٰ کا بھی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز ، سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ، بلوچستان کے وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی اور خیبرپختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے عوام کو ریلیف پہنچانے کے عمل میں بھرپور تعاون کیا۔
انہوں نے کہا کہ تمام صوبائی حکومتوں نے مشترکہ ذمہ داری کے ساتھ عوامی ریلیف کے اس عمل میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس پر وہ ان کے مشکور ہیں۔
امن عمل، قومی اتحاد اور عالمی برادری کے کردار کو خراجِ تحسین
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ وزیر پیٹرولیم، وزارتِ خزانہ، سیکرٹریز اور منصوبہ بندی سے وابستہ تمام اداروں کے حکام کے شکر گزار ہیں جنہوں نے مشکل ترین حالات میں ملک میں توانائی کے نظام کو مستحکم رکھنے کے لیے دن رات محنت کی۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک میں توانائی بحران کے دوران شدید مشکلات دیکھنے میں آئیں، جن میں بعض جگہوں پر عوامی احتجاج، مارکیٹ میں بے چینی اور معاشی عدم استحکام پیدا ہوا، تاہم پاکستان میں متعلقہ اداروں کی بروقت حکمت عملی کے باعث حالات قابو میں رہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس عمل میں نہ صرف ملکی اداروں نے کردار ادا کیا بلکہ دوست ممالک نے بھی بھرپور معاونت فراہم کی۔ انہوں نے ایران کی قیادت، قطر، سعودی عرب، ترکی اور چین سمیت دیگر برادر ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس مشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ تعاون کیا اور توانائی و معاشی استحکام کے عمل کو سہارا دیا۔
یہ بھی پڑھیں:ایران سے معاہدے کا دفاع، امن کا کوئی بھی معاہدہ اچھا ہوگا، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ
انہوں نے کہا کہ چین کی قیادت نے بھی اس عمل میں اہم تعاون فراہم کیا اور پاکستان کے توانائی استحکام کے اقدامات کو بھرپور حمایت دی، جبکہ دیگر دوست ممالک نے بھی اس قومی چیلنج سے نمٹنے میں مثبت کردار ادا کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ایک خاص عزت اور مقام عطا کیا ہے جس پر قوم کو اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس ایوان سے قومی اتحاد، یکجہتی اور اتفاق کا پیغام جانا چاہیے تاکہ دنیا دیکھے کہ پاکستان اپنے اندرونی اختلافات کے باوجود قومی مفاد میں ایک ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کی پیش رفت دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ جب قومیں متحد ہو جائیں تو بڑے سے بڑے چیلنجز بھی آسان ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے ارکانِ اسمبلی پر زور دیا کہ وہ قومی مفاد کے لیے اتحاد و اتفاق کو مزید مضبوط کریں اور دنیا کو یہ پیغام دیں کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور متحد قوم ہے۔














