کمیونسٹ نظام میں بڑی تبدیلی: کیوبا نے آزاد منڈی کی معاشی اصلاحات کی منظوری دے دی

جمعہ 19 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کیوبا کی کمیونسٹ پارٹی نے ملک کو درپیش شدید معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقتصادی پیکیج کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت کئی دہائیوں پر محیط سخت کمیونسٹ معاشی نظام میں پہلی مرتبہ نمایاں آزاد منڈی (فری مارکیٹ) اصلاحات متعارف کرائی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: کیوبا کی امریکا کو سخت وارننگ، فوجی کارروائی ہوئی تو ’خونریزی‘ ہوگی

رپورٹ کے مطابق یہ تاریخی اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کیوبا کو امریکا اور یورپی یونین کی جانب سے بڑھتے ہوئے سفارتی اور معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔

جمعرات کو قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اصلاحاتی منصوبے کے تحت نجی شعبے کو مختلف کاروباری سرگرمیوں میں زیادہ آزادی دی جائے گی جبکہ بیرونِ ملک مقیم کیوبن شہریوں کی سرمایہ کاری کو ملک میں لانے کے لیے نیا نظام متعارف کرایا جائے گا۔

مجوزہ اصلاحات کے تحت نجی رہائشی منصوبوں (پرائیویٹ رئیل اسٹیٹ) کی راہ بھی ہموار کی جائے گی جبکہ متعدد سرکاری اداروں کو بتدریج نجی کمپنیوں میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے، جہاں حصص (شیئرز) اور ایکویٹی کی بنیاد پر سرمایہ کاری کی جا سکے گی۔

مالیاتی شعبے میں بھی ایک بڑی تبدیلی کرتے ہوئے پہلی مرتبہ نجی بینکوں کو کام کرنے کی اجازت دی جائے گی حالانکہ اب تک کیوبا کا بینکاری نظام مکمل طور پر ریاست کے کنٹرول میں رہا ہے۔

مزید پڑھیے: امریکا کو کیوبا سے ڈرون حملوں کا خدشہ، حساس انٹیلیجنس رپورٹ منظرِ عام پر

کیوبا کے صدر میگوئل دیاز کانیل نے کمیونسٹ پارٹی کے اجلاس سے اختتامی خطاب میں کہا کہ ملک نے طویل عرصے سے غیر منصفانہ اور ناقابلِ برداشت دباؤ کا سامنا کیا ہے جس میں اب فوجی کارروائیوں کے خدشات کا بھی اضافہ ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیوبا کے معاشی مسائل صرف بیرونی پابندیوں کا نتیجہ نہیں بلکہ اندرونی بیوروکریسی، سست فیصلہ سازی اور سخت سرکاری ضوابط نے بھی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔

صدر دیاز کانیل نے اعتراف کیا کہ ان اصلاحات کو کمیونسٹ پارٹی کے سخت گیر حلقوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تاہم ان کے بقول یہ تبدیلیاں ناگزیر ہیں اور ان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: سی آئی اے چیف کا غیر معمولی دورۂ کیوبا، ٹرمپ کا اہم پیغام ہوانا حکومت تک پہنچا دیا گیا

رپورٹ کے مطابق بیرونی دباؤ بھی ان اصلاحات کی ایک بڑی وجہ ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے کیوبا پر دباؤ بڑھاتے ہوئے ایندھن کی ترسیل روکنے اور تجارتی پابندیاں برقرار رکھنے جیسے اقدامات کیے جبکہ یورپی یونین نے بھی صدر دیاز کانیل اور فوج کے زیر انتظام کاروباری ادارے گروپو ڈی ایڈمنسٹریسیون ایمپریساریل ایس اے کے خلاف پابندیوں کی قرارداد منظور کی جس میں منظم جبر کا الزام عائد کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عمران خان کی بہن نورین نیازی کو متنازع بیان پر این سی سی آئی اے نے طلب کرلیا

افواجِ پاکستان قوم کا سرمایہ اور فخر، وقار مجروح کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، ملک احمد خان

کراچی پورٹ پر ایک ساتھ 2 ہزار الیکٹرک گاڑیاں، آخر یہ پاکستان کے لیے اتنی بڑی خبر کیوں ہے؟

عطا اللہ تارڑ کا پی ٹی وی اسپورٹس ٹیم کو خراج تحسین، فیفا ورلڈ کپ کی خصوصی کوریج پر فخر کا اظہار

آبنائے ہرمز پر انحصار ختم کرنے کے لیے مقامی سطح پر تیل کی تلاش شروع کرنے پر کام ہورہا ہے، وزیر پیٹرولیم

ویڈیو

نہال ہاشمی سے عالمی شہرت یافتہ باکسر عامر خان کی ملاقات، جدید باکسنگ اکیڈمی کے قیام کی خواہش کا اظہار

مذہبی روایات اور محبت سے بھرپور ڈراما سیریل ’دارالنجات‘ کا ٹیزر جاری، شہریار ، درِفشاں کا مرکزی کردار

آبنائے ہرمز کے بعد باب المندب کی بندش، نصرت جاوید نے ایرانی پراکسی کا کچا چٹھا کھول دیا

کالم / تجزیہ

فیفا کے سنہرے جوتوں کی الف لیلیٰ

کشکول کی تیاری

کیا موساد نےسابق ایرانی صدر کو آلہ کار بنا لیا تھا؟