نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے درمیان جمعہ کو ایک اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات، مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال اور حالیہ سفارتی پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ سرکاری اعلامیے کے مطابق اسحاق ڈار نے ایران کی قیادت، حکومت اور عوام کو امریکا کے ساتھ طے پانے والی تاریخی ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر مبارکباد پیش کی۔
یہ بھی پڑھیں:اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال
انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے اگلے مرحلے کے آغاز کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ بات چیت خوش اسلوبی سے آگے بڑھے گی اور خطے کے لیے مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کا اعتراف
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں پاکستان کی تعمیری اور مسلسل سفارتی ثالثی کی کوششوں پر تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔
Deputy Prime Minister / Foreign Minister Senator Mohammed Ishaq Dar @MIshaqDar50 spoke this evening with the Foreign Minister of Iran, Seyed Abbas Araghchi @Araghchi.
DPM/FM felicitated the leadership, government, and people of the Islamic Republic of Iran on the signing of the… pic.twitter.com/2mGnoQ3UlM
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 19, 2026
انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے لیے ایک انتہائی مثبت اور تاریخی کردار ادا کیا ہے، جسے ایران کی حکومت اور عوام قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
لبنان کی صورتحال اور اسرائیل کی خلاف ورزیوں پر تشویش
تبادلہ خیال کے دوران دونوں وزرائے خارجہ نے خطے کی سیکیورٹی کی صورتحال کا احاطہ کیا۔ اسحاق ڈار اور سید عباس عراقچی نے لبنان میں اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسے یکطرفہ اقدامات خطے کے امن و استحکام کے لیے شدید خطرہ بن سکتے ہیں، اس لیے تنازعات کے حل کے لیے صرف سفارتی ذرائع اور مذاکرات کو ہی ترجیح دی جانی چاہیے۔‘
30 ایرانی شہریوں کی وطن واپسی میں پاکستان کا کردار
اعلامیے کے مطابق بات چیت کا ایک اہم ترین پہلو ان 30 ایرانی شہریوں کی رہائی اور وطن واپسی تھا، جن میں وہ 8 ماہی گیر شامل ہیں جنہیں سمندر میں برطانیہ نے بچایا تھا، جبکہ 22 عملے کے ایسے ارکان تھے جنہیں حال ہی میں امریکا نے اپنی تحویل میں لیا تھا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے ان تمام شہریوں کی بحفاظت وطن واپسی کے لیے پاکستان کے کلیدی تعاون پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔ اعلامیے کے مطابق ان تمام افراد کے عبوری سفری انتظامات اس وقت پاکستان کی معاونت سے مکمل کیے جا رہے ہیں۔
رابطوں کے تسلسل پر اتفاق
ٹیلیفونک گفتگو کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی استحکام اور دوطرفہ اقتصادی و سیاسی تعاون کے فروغ کے لیے قریبی اور مسلسل رابطے برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔














