بینظیر بھٹو شہید کی 73 ویں سالگرہ، صدر مملکت اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو کا شاندار خراجِ تحسین

اتوار 21 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم، قائدانہ صلاحیتوں کی امین اور ’دخترِ مشرق‘بینظیر بھٹو شہید کی 73 ویں سالگرہ آج عقیدت و احترام سے منائی جا رہی ہے۔

وہ اپنے نام کی طرح قابلیت، جرأت، ذہانت اور فیصلوں میں اپنی آخری سانسوں تک بے نظیر رہیں۔ ان کا شمار ایشیا کی ان ممتاز ترین خواتین میں ہوتا ہے جنہوں نے مشکل اور کٹھن ترین حالات کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔

ابتدائی زندگی اور سیاسی سفر کا آغاز

21 جون 1953 کو کراچی میں پیدا ہونے والی سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی بینظیر بھٹو پاکستان کی 2 مرتبہ وزیراعظم رہیں۔ وہ نہ صرف جنوبی ایشیا کی بااثر ترین رہنما بلکہ عالمِ اسلام کی پہلی منتخب خاتون وزیراعظم بھی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:بے نظیر بھٹو شہید کے بعد نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کے نام ایک اور اعزاز

برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے وطن واپسی پر وہ اپنے والد کے ساتھ غیرملکی دوروں پر جانے لگیں، جس سے انہیں امورِ مملکت کو سمجھنے کا موقع ملا۔

1977 میں جب ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹا گیا اور ان کے خلاف مقدمہ چلا، تو بینظیر بھٹو نے انتہائی کٹھن حالات میں عدالتوں کے چکر کاٹے اور آمریت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

بینظیر بھٹو کے اقتدار کی راہ

1982 میں بینظیر بھٹو پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی چیئرپرسن منتخب ہوئیں۔ وطن واپسی پر انہوں نے 1988 کے عام انتخابات میں بھرپور حصہ لیا اور بھاری اکثریت سے ملک کی وزیراعظم منتخب ہوئیں، جبکہ عوام نے انہیں 1993 میں دوبارہ ملک کا اقتدار بخشا۔

9 سالہ جلاوطنی کے بعد وہ 18 اکتوبر 2007 کو جنرل پرویز مشرف کے دورِ حکومت میں دوبارہ وطن واپس آئیں، 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی کے تاریخی لیاقت باغ میں ایک عظیم الشان جلسے سے خطاب کے بعد باہر نکلتے ہوئے نامعلوم افراد نے فائرنگ اور بم دھماکے کے ذریعے انہیں شہید کر دیا۔

بلاول بھٹو زرداری کا پیغام،’بی بی شہید وفاق کی زنجیر تھیں’

سابق وزیراعظم کی 73 ویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنی والدہ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’شہید محترمہ بینظیر بھٹو نہ صرف اسلامی دنیا کی پہلی منتخب خاتون وزیراعظم تھیں بلکہ ایک متحد، جمہوری اور ترقی پسند پاکستان اور “فیڈریشن کی زنجیر” کی علامت بھی تھیں۔

اپنے پیغام میں بلاول بھٹو نے کہا کہ ، بنیظیر بھٹو نے آمریت، ظلم اور ناانصافی کے خلاف بے مثال جدوجہد کی اور قوم کو آئین کی بالادستی، مضبوط وفاق، عوامی حقوق اور ایک منصفانہ معاشرے کا خواب دیا۔’

مزید پڑھیں:ایم بی بی ایس کا مطلب ’محترمہ بے نظیر بھٹو شہید‘، انور مقصود نے ڈاکٹر کا دلچسپ قصہ سنا دیا

انہوں نے مزید کہا کہ آج بھی بی بی شہید کا مشن ہر اس پاکستانی کے دل میں زندہ ہے جو جمہوریت اور انسانی حقوق پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے عہد کیا کہ پیپلز پارٹی بی بی کے عوامی خدمت کے وژن کو مکمل ثابت قدمی سے آگے بڑھائے گی۔

صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کا خراجِ عقیدت

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بینظیر بھٹو کے یومِ پیدائش پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ شہید بینظیر بھٹو کی جمہوریت کے لیے خدمات تاریخ کا روشن باب ہیں۔ انہوں نے اپنی سیاسی بصیرت اور جرأت سے ملک میں خواتین کی قیادت کے دروازے کھولے۔

صدرِ مملکت کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو نے ہر مشکل دور میں جمہوری اصولوں پر ثابت قدمی دکھائی اور قید و جلاوطنی کے باوجود اپنے مؤقف سے پیچھے نہ ہٹیں۔

انہوں نے عوامی خدمت کو سیاست کا مرکزی مقصد بنایا اور ان کی جدوجہد غریب و محروم طبقات کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے ہمیشہ تشدد کی سیاست کو رد کر کے سیاسی مکالمے کو فروغ دیا۔

آصف علی زرداری نے مزید کہا کہ قوم انہیں ہمیشہ جمہوریت، خدمت اور امید کی علامت کے طور پر یاد رکھے گی اور ان کی یاد پاکستان کی اجتماعی قومی یادداشت کا ایک انمٹ حصہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp