صوبہ پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے صوبائی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ سیاسی اختلافات کو جھوٹے الزامات اور سوشل میڈیا مہمات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ پر بحث کے دوران عظمیٰ بخاری نے پی ٹی آئی ارکان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنے بیانات اور الزامات کی تصدیق کر کے بات کرنی چاہیے، جبکہ حکومت پر تنقید پالیسیوں کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:نواز شریف برینڈ ہیں، اگلے الیکشن میں ن لیگ کلین سویپ کرے گی،عظمیٰ بخاری
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ بعض لوگ بغیر تصدیق کے باتیں پھیلاتے ہیں اور انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ انہوں نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن کے الزامات لگانے والے پہلے اپنے ماضی کو دیکھیں۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی کارکنوں کو بھی دباؤ کا سامنا ہوتا ہے، تاہم مثبت سیاست میں پالیسیوں پر تنقید کی گنجائش موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کی جائے تو اسے خوش دلی سے سنا جا سکتا ہے، لیکن سوشل میڈیا پر بنائی گئی غیر مصدقہ باتوں کو اسمبلی میں لا کر پیش کرنا درست نہیں۔
صوبائی وزیر اطلاعات نے کہا کہ منتخب نمائندوں کو ان لوگوں کو جواب دینا پڑتا ہے جو نہ اسمبلی کے رکن ہیں اور نہ جمہوری عمل پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق بعض سیاسی کارکنوں کو سوشل میڈیا پر اپنی پوزیشن واضح کرنے اور وضاحتیں دینے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان بھارتی دھمکیوں کو اب میمز سمجھتا ہے، عظمیٰ بخاری کا مودی پر طنزیہ وار
عظمیٰ بخاری نے پی ٹی آئی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر سیاسی کارکن مثبت انداز میں سیاست کریں اور عوامی مسائل پر بات کریں تو بہتر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ الزامات لگانے سے پہلے حقائق کی جانچ ضروری ہے۔
کسانوں کے مسائل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے ماضی کی حکومتوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ سابق دور میں بھی سیلاب جیسے بحران آئے، تاہم اس وقت کیے گئے بعض اقدامات اور بیانات کو عوام آج بھی یاد رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کسانوں اور دیگر شعبوں کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور بجٹ میں عوامی ریلیف کو ترجیح دی گئی ہے۔














