آزاد جموں و کشمیر کی 53 نشستوں پر مشتمل قانون ساز اسمبلی کی آئینی مدت مکمل ہونے جا رہی ہے، جس کے ساتھ ہی ریاست میں عام انتخابات کا بگل بج چکا ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے 27 جولائی کو انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا جا چکا ہے جس کے بعد تمام سیاسی جماعتوں نے انتخابی مہم تیز کر دی ہے۔
پیپلزپارٹی پہلے تو انتخابات کے لیے تیار نظر نہیں آ رہی تھی تاہم اب پی پی نے بھی میدان میں قدم رکھ دیا ہے اور سیاسی اتحاد بھی کر لیا ہے۔ آزاد کشمیر کے انتخابی منظرنامے میں پیپلز پارٹی کی متحرک انٹری نے سیاسی مقابلے کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات اور وزیراعظم آزاد کشمیر کے معاونِ خصوصی سید عزادار حسین کاظمی کے مطابق پارٹی کی جانب سے امیدواروں سے درخواستیں وصول کی جا رہی ہیں، جس کے بعد پارلیمانی بورڈ امیدواروں کے انٹرویوز کرے گا اور ٹکٹوں کی تقسیم کا فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے آزاد کشمیر الیکشن: مہاجرین کی 12 نشستوں سمیت 45 انتخابی حلقوں کی حتمی فہرست جاری
سید عزادار حسین کاظمی نے بتایا کہ جن امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ جاری کیے جائیں گے، ان کے علاوہ دیگر امیدوار اپنے کاغذات واپس لے لیں گے اور 2 یا 3 جولائی سے باقاعدہ انتخابی مہم کا آغاز کر دیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ پیپلز پارٹی اور جمعیت علماء اسلام کے درمیان انتخابی اتحاد طے پا چکا ہے۔ معاہدے کے تحت جے یو آئی کو 2 نشستیں دی جائیں گی، جن میں ایک لمیاں اور دوسری تھوراڑ کی نشست شامل ہے، جبکہ باقی نشستوں پر پیپلز پارٹی اپنے امیدوار میدان میں اتارے گی۔
انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ پیپلز پارٹی انتخابات کے لیے تیار نہیں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی شیڈول جاری ہونے اور تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد انتخابات کی تیاری نہ کرنا دانشمندی نہیں ہوگی، اس لیے پارٹی مکمل طور پر انتخابی عمل میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔
مرکزی قیادت کی انتخابی مہم میں شرکت کے حوالے سے سید عزادار حسین کاظمی نے بتایا کہ پارلیمانی بورڈ کے اجلاس کے بعد کور کمیٹی فیصلہ کرے گی کہ بلاول بھٹو زرداری، آصفہ بھٹو زرداری یا دیگر مرکزی رہنما آزاد کشمیر کی انتخابی مہم میں شرکت کریں گے یا نہیں۔
مسلم لیگ (ن) کی بھی انتخابی مہم زور و شور سے جاری ہے، صدر ن لیگ نواز شریف نے چند دن قبل ہی انتخابی امیدواروں کی فہرست جاری کر دی تھی۔ ن لیگ آزاد کشمیر کے صدر شاہ غلام قادر، سابق وزیراعظم راجا فاروق حیدر اور دیگر قیادت کی سربراہی میں پارٹی نے مظفرآباد، میرپور، نیلم اور دیگر حلقوں سمیت مہاجرین کے حلقوں میں بھی انتخابی مہم شروع کردی ہے۔
سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کی قیادت میں مسلم کانفرنس باغ اور پونچھ کے بعض حلقوں میں اب بھی اپنا روایتی اثر و رسوخ برقرار رکھے ہوئے ہے اور پارٹی بعض نشستوں پر فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔
صدر مسلم کانفرنس و سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر میں انتخابات کی سیاسی گہما گہمی شروع ہو چکی ہے، مسلم کانفرنس کی کوشش ہے کہ آئندہ انتخابات زیادہ بہتر تیاری کے ساتھ لڑے جائیں۔
آزاد کشمیر کی سیاست میں یہ روایت طویل عرصے سے موجود رہی ہے کہ ووٹر اکثر وفاق میں برسر اقتدار جماعت کے حق میں فیصلہ دیتے ہیں تاکہ ترقیاتی فنڈز اور انتظامی امور میں آسانی پیدا ہو سکے۔













