فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کے فائنل کی میزبانی کرنے والے نیو یارک جرسی اسٹیڈیم پر کھلاڑیوں کی تنقید کے بعد اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہترین کھیل کے میدان کی تیاری کے لیے 5 سال سے زائد عرصے تک تحقیق، تجربات اور جدت پر کام کیا گیا ہے۔
میٹ لائف اسٹیڈیم، جسے ورلڈ کپ کے لیے نیو یارک جرسی اسٹیڈیم کا نام دیا گیا ہے، اب تک 2 میچوں کی میزبانی کر چکا ہے۔ پہلے میچ میں برازیل اور مراکش کے درمیان مقابلہ برابر رہا جبکہ دوسرے میچ میں فرانس نے سینیگال کو 1-3 سے شکست دی۔
یہ بھی پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ 2026: 3 ٹیمیں ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچ گئیں، 3 ٹیمیں ایونٹ سے باہر
اس اسٹیڈیم میں مزید 6 میچ کھیلے جائیں گے، جن میں 19 جولائی کو ہونے والا ورلڈ کپ کا فائنل بھی شامل ہے۔
برازیل کے ونگر وینیسیئس جونیئر نے گراؤنڈ کی حالت پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ شدید گرمی کی وجہ سے گھاس جلد خشک ہوجاتی ہے، جس سے کھیل کی رفتار سست پڑ جاتی ہے اور ٹیموں کے لیے ردھم قائم کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔
فرانس کے کوچ دیدیے دیشام نے بھی طنزیہ انداز میں کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے گھاس کے نیچے سیمنٹ موجود ہو، تاہم ٹیم کو ان حالات کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ: 10 کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے والی پیراگوئے نے ترکیہ کو شکست دے کر ایونٹ سے باہر کردیا
فرانسیسی مڈفیلڈر ایڈرین رابیو نے زیادہ سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ گراؤنڈ اتنی سخت تھی کہ اسے شاید روایتی فٹبال میدان بھی نہیں کہا جا سکتا اور یہ مصنوعی میدان جیسی محسوس ہو رہی تھی۔
اس تنقید کے جواب میں فیفا نے اپنے بیان میں کہا کہ ادارے نے معروف ماہرین، اسٹیڈیم انتظامیہ اور فٹبال سے وابستہ فریقوں کے ساتھ مل کر 5 سال سے زیادہ عرصے تک میدان کی تیاری، جانچ اور بہتری کے لیے کام کیا تاکہ کھلاڑیوں کو بہترین ممکنہ کھیل کا میدان فراہم کیا جاسکے۔










