برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے پیر کے روز اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے وزارتِ عظمیٰ سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔
اس کے ساتھ ہی وہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے سامنے الوداعی خطاب کرنے والے چھٹے برطانوی وزیراعظم بن گئے ہیں۔
کیئر اسٹارمر نے 2024 کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کی تاریخی کامیابی کے بعد اقتدار سنبھالا تھا، انہوں نے معیشت کو مستحکم کرنے، عوامی خدمات کو بہتر بنانے اور کنزرویٹو پارٹی کے دور میں پیدا ہونے والے سیاسی انتشار کا خاتمہ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹارمر کے بعد کون؟ برطانیہ کو ایک دہائی میں 7واں وزیرِ اعظم ملنے کا امکان
تاہم تقریباً 2 سال بعد ان کی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی اور حکومت ’برطانیہ کی تعمیرِ نو‘ کے اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں مشکلات کا شکار رہی، جس کے نتیجے میں انہیں استعفیٰ دینا پڑا۔
برطانیہ کی جدید سیاسی تاریخ میں گزشتہ 10 برسوں کے دوران وزیراعظموں کی اتنی تیزی سے تبدیلی ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔
اس کے برعکس اس سے پہلے کے 40 برسوں میں صرف 6 افراد وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے تھے۔
ڈیوڈ کیمرون (2010 تا 2016)
ڈیوڈ کیمرون نے 2015 میں انتخابی کامیابی حاصل کی تھی، لیکن جون 2016 میں بریگزٹ ریفرنڈم کے نتائج کے اگلے روز استعفیٰ دے دیا۔
برطانوی عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا تھا، حالانکہ کیمرون اس کے مخالف تھے اور انہوں نے بھرپور مہم چلائی تھی۔
تھریسا مے (2016 تا 2019)
تھریسا مے نے بریگزٹ معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کی 3 سالہ کوشش کی، مگر اپنی ہی جماعت کے ارکان کو قائل نہ کر سکیں۔
یورپی یونین کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ پارلیمنٹ میں تین مرتبہ مسترد ہوا، جس کے بعد انہوں نے مئی 2019 میں استعفیٰ دے دیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے اپنی پوری کوشش کی۔
بورس جانسن (2019 تا 2022)
بورس جانسن نے برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلا اور کورونا وبا کے دوران ملک کی قیادت کی، تاہم اخلاقی اور انتظامی نوعیت کے متعدد اسکینڈلز نے ان کی حکومت کو شدید نقصان پہنچایا۔
بالآخر حکومتی عہدیداروں اور قریبی ساتھیوں کے استعفوں کے بعد انہیں بھی منصب چھوڑنا پڑا۔
لز ٹرس (2022)
آزاد منڈی کی حامی لز ٹرس برطانیہ کی تاریخ کی مختصر ترین مدت تک خدمات انجام دینے والی وزیراعظم ثابت ہوئیں۔
وہ صرف 6 ہفتے بعد اکتوبر 2022 میں مستعفی ہو گئیں، ان کے معاشی پیکیج اور بڑے پیمانے پر ٹیکس میں کٹوتیوں نے سیاسی اور معاشی بحران پیدا کر دیا تھا۔
رشی سونک (2022 تا 2024)
تقریباً 2 صدیوں میں برطانیہ کے کم عمر ترین وزیراعظم بننے والے رشی سونک نے مہنگائی میں کمی، صحت کے شعبے میں بیک لاگ ختم کرنے اور غیر قانونی تارکین وطن کی آمد روکنے کے وعدے کیے تھے۔
تاہم وہ کنزرویٹو پارٹی کی گرتی ہوئی مقبولیت بحال نہ کر سکے، جولائی 2024 کے قبل از وقت انتخابات میں پارٹی کو اپنی 2 سو سالہ تاریخ کی بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد سونک مستعفی ہو گئے۔
انہوں نے اپنی الوداعی تقریر میں کہا: ’میں معذرت خواہ ہوں، اور اس شکست کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔‘
کیئر اسٹارمر (2024 تا 2026)
کیئر اسٹارمر نے 2024 میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کر کے اقتدار سنبھالا، سابق ڈائریکٹر آف پبلک پروسیکیوشنز رہنے والے اسٹارمر 14 برس بعد برطانیہ کے پہلے لیبر وزیراعظم تھے۔
انہوں نے معیشت کی بحالی، عوامی خدمات کی بہتری اور سیاست پر عوامی اعتماد بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
تاہم 2 سال سے بھی کم عرصے میں پالیسیوں کی ناکامیوں اور پارٹی کے اندر اختلافات کے باعث ان کی پوزیشن کمزور ہو گئی۔
استعفے کے اعلان کے وقت انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کی جماعت یہ نہیں سمجھتی کہ وہ ’اگلے عام انتخابات میں پارٹی کی قیادت کے لیے بہترین انتخاب‘ ہیں۔














