نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے منگل کو ہونے والے ڈیموکریٹک پرائمری انتخابات میں اپنے حمایت یافتہ امیدواروں کی 3 اہم ترین کامیابیوں کے ذریعے پارٹی کے اندر اپنے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ کا لوہا منوا لیا ہے۔
ان نتائج کو امریکا میں ڈیموکریٹک سوشلسٹ تحریک کے لیے ایک بڑی سیاسی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ انتخابی نتائج کے مطابق ممدانی کے حمایت یافتہ سابق سٹی کمپٹرولر بریڈ لینڈر نے 2 مرتبہ منتخب ہونے والے رکنِ کانگریس ڈین گولڈمین کو شکست دی۔
یہ بھی پڑھیں:کیا ٹیلر سوئفٹ اور ٹریوس کیلسی کی شادی کی تاریخ طے ہو گئی؟ نیویارک میئر ظہران ممدانی کا بیان زیرِ بحث
اسی طرح اسمبلی رکن کلیئر ویلڈیز نے کھلی کانگریشنل نشست پر انٹونیو رینوسو کو ہرایا، جبکہ سماجی کارکن داریالیزا اویلا شیولیئر نے 5 مرتبہ منتخب ہونے والے تجربہ کار رکنِ کانگریس ایڈریانو ایسپائیلاٹ کو معمولی فرق سے ہرا کر سیاسی حلقوں کو حیران کر دیا۔
یہ نتائج 34 سالہ ظہران ممدانی کے لیے ایک اور اہم ترین سیاسی سنگِ میل سمجھے جا رہے ہیں، جنہوں نے 2025 میں نیویارک کے میئر منتخب ہو کر پہلے ہی امریکی سیاست میں ہلچل مچا دی تھی اور اب وہ اپنی پوزیشن مزید مستحکم کر رہے ہیں۔
ڈیموکریٹک سوشلسٹ تحریک کا ملک گیر پھیلاؤ
نیویارک کے یہ شاندار نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ڈیموکریٹک سوشلسٹ نظریات کے حامل امیدوار واشنگٹن ڈی سی میں ابتدائی الیکشن جیت چکے ہیں جبکہ لاس اینجلس میں رن آف مرحلے تک پہنچنے میں کامیاب رہے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت اس بائیں بازو کی سیاسی تحریک کا تسلسل ہے جسے 2016 میں برنی سینڈرز کی صدارتی مہم نے نئی توانائی فراہم کی تھی۔
مزید پڑھیں:نماز عیدالاضحیٰ: نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کی منفرد انداز میں شرکت
تاہم بعض سیاسی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ رجحان صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور سابقہ انتظامیہ کی غزہ جنگ کے حوالے سے اختیار کردہ پالیسیوں پر ترقی پسند ووٹرز کی شدید ناراضی کا عکاس ہے۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے اندرونی اختلافات نمایاں
ظہران ممدانی کے بلاک کی ان کامیابیوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کی مرکزی قیادت اور ترقی پسند دھڑے کے درمیان موجود گہرے اختلافات کو ایک بار پھر شکست کی سطح پر لا کھڑا کیا ہے۔
ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک رہنما حکیم جیفریز نے اگرچہ گزشتہ انتخابات میں ممدانی کی حمایت کی تھی، تاہم یہ اعلان عام انتخابات سے محض چند روز قبل کیا گیا تھا۔
جبکہ دوسری جانب سینیٹ میں ڈیموکریٹک رہنما چک شومر موجودہ انتخابی مہم کے دوران مکمل خاموش رہے۔
2028 کی صدارتی سیاست پر نظریں
واضح رہے کہ حالیہ پرائمری نتائج نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اس نظریاتی بحث کو مزید تیز کر دیا ہے کہ آیا پارٹی کو عوامی مقبولیت کے لیے ترقی پسند اور سوشلسٹ پالیسیوں کی طرف مائل ہونا چاہیے، یا پھر آئندہ عام انتخابات بالخصوص 2028 کے صدارتی انتخاب میں کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے ایک معتدل اور درمیانی سیاسی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔














