امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی قسم کے تشدد کا جواب دیا جائے گا، تاہم امریکا اور ایران کے درمیان معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کا راستہ موجود ہے۔
انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران سے متعلق بیان میں کہا ہے کہ اگر تہران کو مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کے حوالے سے کوئی اختلاف ہے تو وہ براہ راست رابطہ کر کے بات کر سکتا ہے۔
جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا تشدد کا جواب تشدد سے دے گا اور کسی بھی حملے کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست فوجی رابطہ قائم کرنے پر اتفاق ہوگیا، جے ڈی وینس
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کے قریب ایک تجارتی جہاز پر ڈرون حملے کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
رپورٹس کے مطابق تجارتی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد امریکا نے ایران کے خلاف فضائی کارروائی کی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا تھا کہ یہ اقدام آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے واقعے کے جواب میں کیا گیا۔

امریکی نائب صدر نے کہا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ طے پانے والے معاملات پر عملدرآمد چاہتا ہے اور اختلافات کو سفارتی طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کہا ہے کہ امریکا خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے، تاہم ایران کو آبنائے ہرمز کے استعمال پر کسی قسم کی فیس یا ٹول وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
عالمی سطح پر مبصرین کے مطابق خلیج میں حالیہ واقعات کے بعد امریکا اور ایران کے تعلقات ایک بار پھر اہم مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔











