پشاور: خودکش حملہ کی ایف آئی آر میں نئی دفعات شامل

ہفتہ 4 فروری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پشاور پولیس لائنز میں 30 جنوری کو ہونے والے خود کش حملہ کی ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کر لی گئیں۔ ایف آئی آر میں پہلے ہی دہشت گردی، قتل، اقدام قتل اور پولیس پر حملہ کی دفعات شامل ہیں۔

سماء کے مطابق مقدمہ میں 25 بی اور سی کی دفعات شامل کی گئیں۔ یہ سیکشن مذہبی عبادت گاہ اور قرآن مجید کی بے حرمتی کے ہیں۔ تحقیقاتی ٹیموں کو جائے وقوعہ پر ملبے تلے قرآن پاک کے شہید نسخے ملے ہیں جنہیں محفوظ کرلیا گیا۔

پولیس لائنز خود کش حملہ میں 100 سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں جبکہ 200 سے زائد زخمی بھی ہوئے۔ حملہ میں مسجد کے اندرونی اور بیرونی حصے شہید ہوئے تھے جبکہ زیادہ جانی نقصان مسجد کی چھت گرنے سے بھی ہوا۔

اپنی ایک پریس کانفرنس کے دوران آئی جی پولیس پنجاب معظم جاہ انصاری نے انکشاف کیا ہے کہ خود کش حملہ آور پولیس وردی میں ملبوس تھا اور اس نے ہیلمٹ بھی پہنا ہوا تھا۔ وہ موٹر سائیکل پر آیا تھا اور اس نے ایک اور پولیس والے سے مسجد کا راستہ بھی پوچھا تھا۔

معظم جاہ انصاری نے یہ بھی بتایا کہ حملہ آور کی استعمال میں آنے والی موٹر سائیکل مل گئی ہے جس کا چیسس نمبر تبدیل کیا گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وائٹ ہاؤس کی تاریخ کی کم عمر ترین ترجمان کیرولین لیویٹ کا عہدہ چھوڑنے کا اعلان، وجہ کیا بتائی؟

براڈ پیک پر لاپتا پاکستانی کوہ پیما سہیل سخی کی لاش مل گئی

چوری شدہ امریکی شناخت اور اے آئی کا استعمال، شمالی کوریا کی مبینہ خفیہ ریموٹ ورک فورس بے نقاب

اسلام آباد: شراب برآمدگی کیس سے سینکڑوں غیر ملکی شہریوں کی گرفتاری تک، اصل معاملہ کیا ہے

پاکستان کے یومِ آزادی پر جاپانی سفیر کا محبت بھرا پیغام، مضبوط تعلقات کا عزم

ویڈیو

ایران امریکا جنگ میں پاکستان کے ثالثی کردار کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، نارویجن وزیرِ خارجہ کی اسحاق ڈار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس

آزاد کشمیر کے عوام نے عوامی ایکشن کمیٹی کو مسترد کر دیا، تشدد کسی صورت برداشت نہیں ہوگا،  ترجمان آزاد جموں و کشمیر پولیس

‘’میرا پاکستان’ آپ کے نزدیک کس احساس کا نام ہے؟’

کالم / تجزیہ

انڈین خارجہ پالیسی کی ارتھی

ہمیں کاکروچ نہیں، خرگوش چاہییں

13 برس بعد معلوم ہوا