سائنسدانوں نے پہلی بار بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن یعنی اس سرحد کے ‘نشانات’ دریافت کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جہاں سے روشنی سمیت کوئی بھی چیز واپس نہیں آ سکتی۔
بین الاقوامی تحقیقی جریدے نیچرمیں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ اہم پیش رفت 2 بلیک ہولز کے انتہائی شدید تصادم سے پیدا ہونے والی ثقلی لہروں کے تجزیے سے ممکن ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: یلو اسٹون میں خلائی مخلوق کی تلاش، سائنسدانوں کی تحقیق سے مریخ پر زندگی کے شواہد ملنے کی امید
ایونٹ ہورائزن کو بلیک ہول کا ‘پوائنٹ آف نو ریٹرن’ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ اس حد کو عبور کرنے کے بعد کوئی بھی مادہ یا روشنی واپس نہیں آ سکتی، جس کی وجہ سے اس خطے کا براہِ راست مطالعہ ہمیشہ سے سائنسدانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج رہا ہے۔
تحقیق کے مطابق جب 2 بلیک ہول آپس میں ضم ہو کر ایک بلیک ہول بن جاتے ہیں تو اس عمل کے دوران کائنات میں طاقتور ثقلی لہریں پیدا ہوتی ہیں، جنہیں گزشتہ ایک دہائی سے سائنسدان ریکارڈ کر رہے ہیں۔
JUST IN🚨: Scientists May Have Detected The First Signature of a Black Hole's Event Horizon. pic.twitter.com/C5rRzMGK6W
— Night Sky Today (@NightSkyToday) June 24, 2026
محققین نے جنوری 2025 میں امریکی لائگو رصدگاہ کی جانب سے ریکارڈ کی جانے والی اب تک کی طاقتور ترین ثقلی لہروں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا۔
سائنسدانوں نے اس تصادم کے آخری مرحلے میں پیدا ہونے والی ‘ڈائریکٹ ویوز’ کو الگ کر کے ایونٹ ہورائزن کے انتہائی قریب کے علاقے سے متعلق معلومات حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
کینیڈا کے پیری میٹر انسٹی ٹیوٹ فار تھیوریٹیکل فزکس سے تعلق رکھنے والے تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر سِژینگ ما کا کہنا ہے کہ بلیک ہول کا ایونٹ ہورائزن اب تک سائنس فکشن کا حصہ محسوس ہوتا تھا، لیکن اب ثقلی لہروں کی مدد سے اس کے آس پاس کے علاقے کا مطالعہ ممکن ہو رہا ہے۔
مزید پڑھیں: سورج زمین کو نہیں نگل سکے گا، نئی تحقیق نے پرانا سائنسی نظریہ چیلنج کر دیا
انہوں نے بتایا کہ 2 بلیک ہولز کے انضمام کے آخری مرحلے کو پانی سے بھرے گلاس میں چمچ گھمانے سے تشبیہ دی جا سکتی ہے، جس سے پیدا ہونے والی گردش کی طرح خلا میں ارتعاش پیدا ہوتا ہے اور یہی ثقلی لہریں روشنی کی رفتار سے پوری کائنات میں سفر کرتی ہیں۔
تحقیق کے نتائج آئن اسٹائن کے عمومی نظریۂ اضافیت کی مزید تائید کرتے ہیں۔ سائنسدانوں نے بلیک ہول کی گردش کے دوران خلا اور وقت کے مڑنے کے عمل، جسے ‘فریم ڈریگنگ’ کہا جاتا ہے، کے شواہد بھی حاصل کیے۔

محققین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں وہ اسی طریقہ کار کے ذریعے انتہائی معمولی کوانٹم اتار چڑھاؤ کا سراغ لگانے کی کوشش کریں گے، جس سے ممکنہ طور پر نئی طبیعیات اور عمومی نظریۂ اضافیت سے ہٹ کر کسی نئی حقیقت تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
تاہم تحقیق پر سائنسی حلقوں میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے، بعض ماہرین نے نتائج کو اہم قرار دیتے ہوئے مزید آزادانہ تصدیق کی ضرورت پر زور دیا۔
مزید پڑھیں: مریخ پر زندگی کے آثار: نئے اور مضبوط سراغ مل گئے
جبکہ چند سائنسدانوں نے اس بات پر شکوک کا اظہار کیا کہ آیا ریکارڈ کی گئی ثقلی لہروں سے واقعی ایونٹ ہورائزن کی خصوصیات کا براہِ راست اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر سِژینگ ما نے تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ نئے سائنسی تصورات کے آغاز میں اختلافِ رائے معمول کی بات ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس حوالے سے مزید وضاحتی تحقیق پر کام کر رہے ہیں۔













