عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) خیبرپختونخوا نے صوبے میں کنٹریکٹ ڈاکٹروں کی بھرتی کے عمل پر سنگین سوالات اٹھا دیے۔
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) خیبرپختونخوا کے جنرل سیکریٹری حسین شاہ یوسف زئی نے کہا ہے کہ صوبے میں نئے کنٹریکٹ ڈاکٹروں کی بھرتی کے عمل میں سامنے آنے والی مبینہ کرپشن اور سنگین بے ضابطگیاں انتہائی تشویشناک ہیں۔
خیبر پختونخوا میں نئے کنٹریکٹ ڈاکٹرز کی تعیناتی میں ہوشربا کرپشن اور بے ضابطگیاں انتہائی تشویشناک ہیں، حسین شاہ یوسفزئی
خیبر پختونخوا میں نئے کنٹریکٹ ڈاکٹرز کی بھرتیوں کے عمل میں سامنے آنے والی سنگین بے ضابطگیاں اور مبینہ کرپشن انتہائی تشویشناک ہیں۔
1400 پوسٹوں کی بھرتی کے عمل… pic.twitter.com/y7hEH6xH1s
— Awami National Party (@ANPMarkaz) June 29, 2026
حسین شاہ یوسف زئی نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ 1400 آسامیوں پر بھرتیوں کے عمل میں ایک صوبائی وزیر نے مبینہ طور پر وزیراعلیٰ ہاؤس میں بیٹھ کر فی آسامی 15 لاکھ روپے کے عوض تقرریاں فروخت کیں، اور اب یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔
حسین شاہ یوسفزئی نے کہاکہ یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ باقاعدہ اسپیشلائزیشن مکمل کرنے والے اہل اور قابل ڈاکٹروں کو نظر انداز کر دیا گیا، جبکہ غیر اہل افراد کو بھرتی کر لیا گیا۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ ابتدائی بھرتی نتائج جاری کیے گئے تھے، جن کے اسکرین شاٹس متعدد امیدواروں کے پاس موجود ہیں۔ کئی امیدواروں کو کامیاب قرار دے کر ان کی تقرریوں پر عملدرآمد بھی کیا گیا، تاہم بعد ازاں وہ نتائج اچانک پورٹل سے ہٹا دیے گئے اور ان کی جگہ نئے اور تبدیل شدہ نتائج جاری کر دیے گئے۔
اے این پی رہنما نے کہاکہ یہی وہ حکومت ہے جو مسلسل ریاست مدینہ، کرپشن سے پاک پاکستان، شفافیت اور نئے پاکستان کے دعوے کرتی رہی، مگر اب یہ تمام وعدے کہاں گئے؟
انہوں نے کہاکہ اس معاملے کو ہر صورت منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
حسین شاہ یوسفزئی نے مزید کہاکہ تمام متاثرہ امیدواروں کو متحد کرکے بھرتیوں کے اس عمل میں مبینہ کرپشن اور بے ضابطگیوں کے خلاف ہر حد تک جائیں گے۔














