اٹلی پاکستان کو 20 ملین یورو کا رعایتی قرض فراہم کرےگا، معاہدے پر دستخط

پیر 29 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اور اٹلی کے درمیان 20 ملین یورو (قریباً 6.3 ارب روپے) کے رعایتی قرضے کے معاہدے پر دستخط کر دیے گئے۔

وزارتِ اقتصادی امور کے مطابق معاہدے پر وزارتِ اقتصادی امور کے سیکریٹری محمد حمیر کریم اور پاکستان میں اٹلی کی سفیر ماریلینا آرمیلین نے دستخط کیے۔

مزید پڑھیں: پاکستان اٹلی سے دفاعی تعاون کے فروغ اور باہمی تجربے سے مستفید ہونا چاہتا ہے، وزیردفاع

وزارتِ اقتصادی امور کے مطابق اس منصوبے کے تحت پاکستان کے تکنیکی و پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کے نظام کو زرعی شعبے میں مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ جدید اور مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ تربیتی پروگراموں کے ذریعے کسانوں اور زرعی توسیعی عملے کی استعداد کار میں اضافہ کیا جائے گا۔

وزارت کے مطابق پروگرام کا بنیادی مقصد زرعی پیداوار میں اضافہ، پائیدار زرعی طریقوں کو فروغ دینا اور دیہی آبادی کے معاشی حالات کو بہتر بنانا ہے۔

منصوبے کے تحت اعلیٰ قدر کی حامل زرعی فصلوں کی ترقی اور زرعی و غذائی ویلیو چینز کو مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ باغبانی کی پیداوار، پراسیسنگ اور مارکیٹنگ سے وابستہ افراد کے لیے خصوصی تربیتی مراکز بھی قائم کیے جائیں گے۔

وزارت اقتصادی امور کے مطابق زیتون، پستہ، کھجور، مشروم، چیری، انگور، آڑو اور بادام جیسی فصلوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جبکہ جدید اطالوی زرعی مہارت اور پاکستان کی وسیع زرعی استعداد سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے گا۔

وزارت کے مطابق 42 ماہ پر مشتمل اس پروگرام کے دوران مجموعی طور پر 720 تربیتی کورسز منعقد کیے جائیں گے، جن سے 18 ہزار 398 افراد مستفید ہوں گے۔

منصوبے کے تحت زراعت کے شعبے کے لیے 11 معیاری تربیتی نصاب تیار کیے جائیں گے، جبکہ 12 ماڈل باغات اور نرسریاں بھی قائم کی جائیں گی۔

منصوبے کے تحت موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ 8 ماحول دوست دیہات تعمیر کیے جائیں گے، جبکہ 5 زرعی و غذائی پراسیسنگ یونٹس اور 2 قومی مراکزِ امتیاز بھی قائم کیے جائیں گے۔

وزارت اقتصادی امور کے مطابق سرگودھا میں کینو و مالٹے اور تربت میں کھجور کی پیداوار کے لیے قومی مراکز امتیاز قائم کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور اٹلی کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے، پنجاب سرمایہ کاری اور جدید ٹیکنالوجی کا مرکز بن رہا ہے، علی ڈار

وزارت اقتصادی امور نے بتایا کہ صوبائی محکمہ زراعت کے تعاون سے پاکستان آئل سیڈ ڈیپارٹمنٹ اس منصوبے پر عملدرآمد کرےگا۔

وزارت کے مطابق اس منصوبے سے دیہی علاقوں میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور زرعی پیداوار کی کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات (پوسٹ ہارویسٹ لاسز) میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp