اسٹیٹ بینک نے ملک بھر کے تمام بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی صارف کے بینک اکاؤنٹ پر ڈیبٹ بلاک، آپریشنل پابندی یا اکاؤنٹ فریز کرنے کا اقدام صرف قانونی اختیار، مجاز اتھارٹی کی منظوری اور مناسب تصدیق کے بعد ہی کیا جائے۔
اسٹیٹ بینک نے یہ نیا ہدایت نامہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر جاری کیا ہے اور اس پر عمل درآمد کی رپورٹ بھی عدالت میں جمع کرا دی ہے۔
ہدایت نامے کے مطابق بینک اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ کسی بھی شہری کے اکاؤنٹ کے خلاف کارروائی صرف قانون کے مطابق اور متعلقہ مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں بڑا اضافہ، آئی ایم ایف سے 1.3 ارب ڈالر موصول
اسٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ بغیر قانونی اختیار کے کسی بھی اکاؤنٹ پر ڈیبٹ بلاک، آپریشنل پابندی یا اکاؤنٹ فریز نہیں کیا جا سکتا۔
اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایسا مؤثر اندرونی میکنزم وضع کریں جس کے ذریعے اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ قانونی اختیار کے بغیرغیرارادی یا احتیاطی بنیادوں پر عائد کی جانے والی پابندیوں سے اکاؤنٹ ہولڈرز کو غیر ضروری نقصان نہ پہنچے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ پہلے ہی بغیر قانونی اختیار اور مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بینک اکاؤنٹس بلاک کرنے سے روک چکی ہے۔
مزید پڑھیں: اسٹیٹ بینک کا بڑا فیصلہ: ٹیکسز اور ڈیوٹیز کی وصولی کے لیے ہفتہ اور اتوار کو بینک کھولنے کا اعلان
اس مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس ارباب محمد طاہر نے اسٹیٹ بینک کو ہدایت کی تھی کہ وہ بینکوں کے لیے واضح اندرونی طریقہ کار مرتب کرے اور اس حوالے سے ضروری ہدایات جاری کرے۔
عدالتی حکم پر عمل کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک نے ملک بھر کے بینکوں کے لیے نیا ہدایت نامہ جاری کر دیا ہے اور اس پر عمل درآمد کی رپورٹ بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرا دی ہے۔
نئی ہدایات کا مقصد بینکنگ نظام میں قانونی تقاضوں کی پابندی کو یقینی بنانا اور اکاؤنٹ ہولڈرز کو بلاجواز یا غیر ضروری پابندیوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔














