لاہور کے علاقے کاہنہ میں نجی ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے باعث 14 بچے جاں بحق جبکہ متعدد دیگر زخمی ہو گئے۔
پنجاب کے وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے 14 بچوں کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی، جبکہ لاہور کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) آپریشنز فیصل کامران نے بھی جانی نقصان کی تصدیق کی ہے۔
ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد ریسکیو 1122 کے ترجمان نے بتایا کہ خاتون ٹیچر اور 8 بچوں کو متعدد زخموں کی حالت میں لاہور جنرل اسپتال منتقل کیا گیا، جن میں سے 5 بچوں کی حالت تشویشناک ہے۔
لاہور میں اپنے پیارے بچوں کو کھونے والے والدین غم سے نڈھال
لاہور: کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرگئیلاہور:14بچےجاں بحق،متعددکی حالت تشویشناک،ہلاکتوں میں اضافےخدشہ
Lahore Kahna incident #Kahna
#Lahore #HeatWave pic.twitter.com/n7b7tgVYO3— Sumair jamil (@sumair_shah123) June 30, 2026
ادھر وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے بتایا کہ قریبی تحصیل ہیڈکوارٹر (ٹی ایچ کیو) اسپتال کاہنہ میں زیر علاج 2 بچوں کو طبی امداد کے بعد گھر جانے کی اجازت دے دی گئی، جبکہ وہاں زیر علاج باقی 4 بچوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
انہوں نے کہاکہ ملبے تلے قریباً 20 افراد دب گئے تھے، جن میں 14 بچے شامل تھے جنہیں مردہ حالت میں ٹی ایچ کیو اسپتال لایا گیا۔
ابتدائی طور پر بعض زخمی بچوں کو ٹی ایچ کیو اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم بعد ازاں انہیں لاہور جنرل اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
لاہور جنرل اسپتال کی جانب سے ابتدائی طور پر جاری کی گئی جاں بحق بچوں کی فہرست کے مطابق ان میں سے 8 بچوں کی عمریں 5 سے 16 سال کے درمیان تھیں۔
’ریسکیو آپریشن ختم، گھر کا مالک اور ٹھیکیدار زیر حراست‘
لاہور پولیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا گیا ہے۔
بیان کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے سلسلے میں 2 افراد، جن میں گھر کا مالک بھی شامل ہے، کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
بیان میں ڈی آئی جی فیصل کامران کے حوالے سے کہا گیا کہ شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ڈی آئی جی نے بتایا کہ حال ہی میں مکان تعمیر کرنے والا ٹھیکیدار بھی زیر حراست افراد میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکان کا ایک حصہ زیر تعمیر تھا اور حادثے کے وقت مزدور وہاں کام کر رہے تھے۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان فاروق احمد نے بتایا کہ متاثرہ عمارت میں 2 کمرے استعمال ہو رہے تھے، جن کی چھتیں گرنے سے کم عمر بچے ملبے تلے دب گئے۔
دوسری جانب امدادی کارروائی میں شریک ایدھی ریسکیو سروس نے اپنے بیان میں کہاکہ چھت اچانک منہدم ہوئی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق چھت ٹی آر گارڈر سے تعمیر کی گئی تھی۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ چھت گرنے اور قیمتی جانوں کے ضیاع کے ذمہ دار افراد کے کردار کا تعین کیا جائے تاکہ ان کے خلاف فوجداری کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
’نجی ٹیوشن سینٹر خاتون چلا رہی تھیں‘
لاہور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر طارق محمود نے بتایا کہ متاثرہ عمارت میں ایک نجی ٹیوشن سینٹر قائم تھا، جسے علاقے کی ایک خاتون چلا رہی تھیں۔
دریں اثنا محکمہ صحت نے لاہور جنرل اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے متعلقہ سینیئر انتظامی افسران، ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل عملے کو ہدایت کی کہ زخمی بچوں کو فوری اور بلا تاخیر طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار
وزیراعظم شہباز شریف نے کاہنہ میں ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے کے افسوسناک واقعے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے جاں بحق افراد کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور سوگوار خاندانوں سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ متاثرین کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔












