ٹیکسٹائل ایکسپورٹ مکس کی درستی: پاکستان کی ایکسپورٹ بڑھانے کا اگلا مرحلہ

منگل 30 جون 2026
author image

راحیل نواز سواتی

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

گزشتہ کئی سالوں سے ہمارے ملک میں انرجی مکس کو درست کرنے پر اکثر بحث ہوتی رہی ہے۔ اس ضمن میں ماہرین کے مطابق بجلی کی پیداوار کا انحصار مہنگے ایندھن پر ہونے کے باعث صنعتی پیداوار کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے برآمدات متاثر ہوتی ہیں اور معاشی دباؤ بڑھتا ہے۔ اسی وجہ سے توانائی کے شعبے میں مقامی اور نسبتاً سستے ذرائع پر مشتمل متوازن انرجی مکس وقت کی اہم ضرورت ہے۔

موجودہ حکومت اب برآمدات پر مبنی معیشت پر زور دے رہی ہے، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ ایک اور معاشی اصطلاح بھی قومی مباحثے کا حصہ بنے، اور وہ ہے ٹیکسٹائل ایکسپورٹ مکس۔

جس طرح انرجی مکس کا جائزہ لینے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں توانائی کی پیداوار کی درست ترجیحات کیا ہیں، اسی طرح ایکسپورٹ مکس یہ بتاتا ہے کہ پاکستان اپنی ٹیکسٹائل برآمدات میں کن مصنوعات پر زیادہ انحصار کر رہا ہے اور ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافے کی درست سمت کیا ہونی چاہیے۔

ہمارے ملک کی ٹیکسٹائل برآمدات تقریباً 18 ارب ڈالر ہیں، جو مجموعی برآمدات کا سب سے بڑا حصہ ہیں، لیکن برآمدات پر مبنی معیشت کے لیے یہ کافی نہیں۔ اس شعبے میں مزید اضافے کی بڑی گنجائش موجود ہے اور ہمیں اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان ہوم ٹیکسٹائل، ریڈی میڈ گارمنٹس، تولیے اور دیگر ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل مصنوعات بھی برآمد کرتا ہے، لیکن کاٹن یارن، گریج فیبرک اور کم ویلیو ایڈڈ مصنوعات کا حصہ اب بھی زیادہ ہے۔ حالانکہ عالمی منڈی میں اصل منافع خام مال یا ابتدائی مصنوعات میں نہیں بلکہ تیار شدہ، برانڈڈ اور اعلیٰ ویلیو ایڈڈ مصنوعات میں ہوتا ہے۔

پاکستان کا اگلا برآمدی ہدف صرف برآمدات کی مقدار بڑھانے سے نہیں بلکہ ٹیکسٹائل ایکسپورٹ مکس کو بہتر بنانے سے حاصل ہو سکتا ہے۔ اگر کپاس سے صرف دھاگہ اور سادہ کپڑا برآمد کرنے کے بجائے تیار شدہ ملبوسات، اسپورٹس ویئر، ٹیکنیکل ٹیکسٹائل اور برانڈڈ مصنوعات تیار کی جائیں تو کئی گنا زیادہ زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔

ایک اور اہم پہلو، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کپاس کی پیداوار ہے۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کی بنیاد کپاس ہے۔ ایک عشرہ قبل ہمارے ملک میں کپاس کی پیداوار تقریباً 14 ملین گانٹھیں تھی، جبکہ حالیہ برسوں میں یہ کم ہو کر صرف 5 سے 6 ملین گانٹھوں تک رہ گئی ہے۔ نتیجتاً ٹیکسٹائل صنعت کو خام کپاس درآمد کرنا پڑتی ہے، جس سے ایک طرف پیداواری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور دوسری جانب قیمتی زرمبادلہ بھی ملک سے باہر جاتا ہے۔

ہمیں پیداواری توازن پر بھی منظم انداز میں کام کرنا ہوگا۔ اگر ویلیو ایڈیشن کے لیے مطلوبہ خام مال ہی دستیاب نہیں ہوگا تو یہ صنعت اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ کام نہیں کر سکے گی۔ دوسری طرف اگر کپاس کی پیداوار بڑھا کر اسے خام کپاس یا کم ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی صورت میں برآمد کر دیا جائے تو ہماری برآمدات اسی سطح پر محدود رہیں گی۔

دراصل پاکستان کو دوہری اصلاحات کی ضرورت ہے۔

پہلی اصلاح کپاس کی پیداوار میں ہونی چاہیے تاکہ پاکستان دوبارہ اپنی ملکی ضرورت کے مطابق کپاس پیدا کرنے کے قابل ہو سکے۔ اس مقصد کے لیے جامع حکمت عملی مرتب کی جائے، جس میں مؤثر زرعی توسیعی خدمات، بہتر بیج، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ کاشت، جدید تحقیق اور کسانوں کے لیے ضروری مراعات شامل ہوں۔

دوسری اصلاح ہماری ٹیکسٹائل ایکسپورٹ مکس میں ہونی چاہیے تاکہ ویلیو ایڈڈ مصنوعات کا حصہ زیادہ سے زیادہ ہو، کیونکہ خام اور نیم خام مصنوعات کے مقابلے میں ان کی قیمت زیادہ ہوتی ہے اور ان سے کہیں زیادہ زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ ٹیکنیکل ٹیکسٹائل، فیشن مصنوعات، ریڈی میڈ گارمنٹس، برانڈنگ، ڈیزائن اور عالمی ویلیو چین کے زیادہ منافع والے حصوں تک رسائی ہی پاکستان کی برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔

پاکستان کی برآمدات میں اضافے کا اگلا لائحہ عمل صرف “زیادہ برآمدات” نہیں بلکہ “بہتر برآمدات” ہونا چاہیے۔ اضافی تجارتی زرمبادلہ کے حصول اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے ہمیں اس سمت میں بھرپور توجہ اور مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp