توانائی کے ذخائر مزید بہتر، حکومت نے اسپاٹ مارکیٹ سے نئی ایل این جی کھیپ خرید لی

بدھ 1 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

حکومت نے خطے میں جاری کشیدگی اور توانائی کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے اسپاٹ مارکیٹ سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ایک اور کھیپ حاصل کر لی ہے۔ برٹش پٹرولیم (بی پی) سنگاپور کی پیشکش کامیاب قرار دی گئی، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں گیس کی مجموعی صورتحال اطمینان بخش ہے اور بجلی و کھاد کے شعبوں کو آر ایل این جی کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔

حکومت پاکستان نے خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے پیش نظر توانائی کی ضروریات کو محفوظ بنانے کے لیے اسپاٹ مارکیٹ سے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی ایک اور کھیپ خریدنے کا انتظام کر لیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق برٹش پٹرولیم (بی پی) سنگاپور نے ایک لاکھ 40 ہزار مکعب میٹر ایل این جی کی فراہمی کے لیے 16.7372 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی کامیاب بولی دی ہے۔

یہ بھی پڑھیے پاکستان ایل این جی لمیٹڈ کا اسپاٹ ایل این جی کارگو کے لیے عالمی ٹینڈر جاری

بی پی سنگاپور کی جانب سے فراہم کیا جانے والا  ’ارادا‘ (ARADA) نامی ایل این جی بردار جہاز 4 جولائی 2026 کو پاکستان گیس پورٹ کنسورشیم لمیٹڈ (پی جی پی ایل) ٹرمینل پہنچنے کا امکان ہے۔ 28 مئی کو ایران پر حملے کے بعد پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) کے قواعد میں کی گئی ترامیم کے تحت مسابقتی بولی کے ذریعے حاصل کیا جانے والا یہ تیسرا اسپاٹ ایل این جی کارگو ہوگا۔

قطر انرجی کی جانب سے حکومت سے حکومت (جی ٹو جی) معاہدے کے تحت فراہم کی جانے والی 5 طویل المدتی کھیپوں کو شامل کیا جائے تو اپریل کے آخر سے اب تک پاکستان کو موصول ہونے والی ایل این جی کھیپوں کی مجموعی تعداد 8 ہو جائے گی۔

پی ایل ایل بورڈ کی منظوری

پیٹرولیم ڈویژن کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) کے بورڈ نے 29 جون کو بی پی سنگاپور کو اسپاٹ کارگو کا ٹھیکہ دینے کی منظوری دی۔

پی ایل ایل نے 27 جون کو ایک لاکھ 40 ہزار مکعب میٹر ایل این جی کے لیے ٹینڈر جاری کیا تھا، جبکہ 29 جون کو موصول ہونے والی بولیاں کھولی گئیں۔ بی پی سنگاپور واحد بولی دہندہ تھا، جس کی پیشکش تکنیکی اور مالی لحاظ سے قواعد کے مطابق قرار دی گئی اور اسی روز منظوری دے دی گئی۔

گیس کی صورتحال اطمینان بخش قرار

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کے کسی بھی مقامی گیس فیلڈ کو اس وقت جبری طور پر بند نہیں کیا گیا، جبکہ گیس ٹرانسمیشن سسٹم میں 4.7 ارب مکعب فٹ (بی سی ایف) لائن پیک موجود ہے، جو دستیاب گیس ذخائر کو اطمینان بخش ظاہر کرتا ہے۔

تاہم حکام کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایک سیکیورٹی واقعے کے باعث مقامی گیس کی پیداوار جزوی طور پر متاثر ہوئی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ 15 جون 2026 کو شدت پسندوں کی جانب سے بیٹنی کاکاخیل گیس پائپ لائن پر فائرنگ کے نتیجے میں گیس لیکج ہوئی، جس کے بعد بیٹنی گیس فیلڈ سے پیداوار معطل ہے۔ متاثرہ پائپ لائن کی بحالی کا کام جاری ہے۔

بجلی اور کھاد کے شعبے کو آر ایل این جی کی فراہمی جاری

حکام کے مطابق مقامی گیس کی جزوی بندش کے باوجود ری گیسفائیڈ ایل این جی (آر ایل این جی) ملک کی توانائی ضروریات پوری کرنے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے پاکستان کو سستی ایل این جی فراہم کرنے کے لیے عالمی توانائی کمپنیوں کی دوڑ لگ گئی

30 جون تک کے اعداد و شمار کے مطابق بجلی پیدا کرنے والا شعبہ روزانہ 374 ملین مکعب فٹ آر ایل این جی استعمال کر رہا ہے، جبکہ کھاد سازی کی صنعت کو یومیہ 87 ملین مکعب فٹ آر ایل این جی فراہم کی جا رہی ہے۔

قطر سے 5 اور اسپاٹ مارکیٹ سے 3 کھیپیں

’ارادا’ کی آمد سے قبل پاکستان قطر انرجی کے ساتھ طویل المدتی معاہدے کے تحت 5 ایل این جی کارگو حاصل کر چکا ہے۔

ان میں الخرائطیات (12 مئی)، محزم (16 مئی)، الفویرت (28 مئی)، لبریثہ (12 جون) اور مرائخ (MRAIKH) (22 جون) شامل ہیں، جبکہ مرائخ نے ایک لاکھ 70 ہزار 148 مکعب میٹر ایل این جی پورٹ قاسم کے اینگرو ٹرمینل پر پہنچائی تھی۔

قطر سے آنے والی ان کھیپوں کے علاوہ پاکستان نے عالمی مسابقتی بولی کے ذریعے 2 مزید اسپاٹ کارگو بھی حاصل کیے، جن میں سی پیک میگیلن (Seapeak Magellan) شامل ہے، جو 30 اپریل کو ٹوٹل انرجیز کی جانب سے فراہم کی گئی، جبکہ بی ڈبلیو ہیلیوس (BW Helios) عمان سے 9 جون کو پاکستان پہنچی تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ نئی ایل این جی کھیپ کی آمد سے ملک میں گیس کی فراہمی مزید مستحکم ہوگی اور توانائی کی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے کی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

لاہور سانحہ: ٹیوشن سنٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق، غیر رجسٹرڈ اداروں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع

رام مندر کرپشن اسکینڈل، آئندہ انتخابات سے قبل بی جے پی نئی آزمائش سے دوچار

وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر پنجاب کے چڑیا گھروں میں جانوروں کو شدید گرمی سے بچانے کے لیے خصوصی انتظامات

پنجاب میں 10 لاکھ کسان کارڈز کا ہدف آخری مرحلے میں، 360 ارب کے بلا سود قرضے جاری

’اگر بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کی تو پاکستان ہر محاذ پر لڑنے کے لیے تیار ہے‘، سوشل میڈیا پر پاکستانی یک زبان ہوگئے

ویڈیو

فٹبال ورلڈ کپ: سعودی آرامکو کی انعامی مہم، جانیے تحائف کی تفصیل

سندھ طاس معاہدہ: پانی، امن اور مستقبل کی کہانی

مودی کی آبی جارحیت پر پاکستان کا ایک بار پھر سخت ردعمل

کالم / تجزیہ

عالمی ریکارڈ کا حامل پاکستانی ڈاک ٹکٹ

تحریک انصاف اور محمود اچکزئی: ارادے کیا ہیں؟

جس کے ذکر سے پہلے پلکیں اشکوں سے وضو کرتی ہیں