ناسا کا خلائی دوربین کو بچانے کے لیے روبوٹک مشن، لانچنگ خراب موسم کے باعث مؤخر

منگل 30 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی خلائی ادارے ناسا نے اپنے پرانے مگر اہم خلائی دوربین سوئفٹ اسپیس ٹیلی اسکوپ کو زمین کے ماحول میں جل کر تباہ ہونے سے بچانے کے لیے ایک منفرد روبوٹک ریسکیو مشن شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم خراب موسمی حالات کے باعث راکٹ کی لانچ مؤخر کردی گئی ہے۔

ناسا کے مطابق امریکی اسٹارٹ اپ کیٹالسٹ کی تیار کردہ روبوٹک خلائی گاڑی لنک  کو منگل کے روز بحرالکاہل کے ایک جزیرے سے پیگاسس راکٹ کے ذریعے روانہ کیا جانا تھا، لیکن ناموافق موسم کے باعث لانچ ملتوی کردی گئی۔ اب اگلی کوشش یکم جولائی کو کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں: ناسا اپنی دیوہیکل خلائی دوربین کو بچانے کے لیے کوشاں، امریکی اسٹارٹ اپ کمپنی سے مدد لے لی

یہ راکٹ روایتی لانچ پیڈ سے نہیں بلکہ ایک طیارے سے فضا میں چھوڑا جائے گا، جہاں سے وہ خلا کی جانب سفر شروع کرے گا۔

ناسا کی ماہر فلکیات ریجینا کیپوٹو نے کہا کہ اس مشن کا ہر مرحلہ غیر معمولی ہے۔ روبوٹ کو پہلے خلا میں سوئفٹ دوربین کا سراغ لگانا ہوگا، پھر اس کے گرد گھومتے ہوئے اپنے تین متحرک بازوؤں کی مدد سے اسے پکڑنا ہوگا۔

منصوبے کے مطابق روبوٹ کم از کم ایک ماہ کے دوران دوربین کو موجودہ مدار سے تقریباً 300 کلومیٹر بلند اور زیادہ محفوظ مدار میں منتقل کرے گا تاکہ وہ زمین کے ماحول میں داخل ہو کر تباہ نہ ہو۔

ناسا کے شعبۂ فلکیات کے ڈائریکٹر شان ڈوماگل گولڈمین نے کہا کہ اس مشن میں کئی ایسے اقدامات پہلی بار آزمائے جا رہے ہیں، تاہم وہ خوش ہیں کہ ادارہ اس تجربے کی کوشش کررہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ناسا کی بڑٖی کامیابی، غیر متوقع سیارچے پر قدیم پانی کے شواہد دریافت

سوئفٹ خلائی دوربین 2004 میں لانچ کی گئی تھی اور اسے ابتدا میں صرف 2 سال کے مشن کے لیے تیار کیا گیا تھا، تاہم یہ اب بھی فعال ہے اور گاما شعاعوں کے طاقتور دھماکوں سمیت کائنات کے انتہائی طاقتور واقعات کا مشاہدہ کررہی ہے۔

ناسا کے مطابق دوربین زمین سے تقریباً 600 کلومیٹر کی بلندی پر کم مدار میں گردش کررہی ہے، لیکن شمسی سرگرمیوں کے باعث زمین کی فضائی تہہ پھیلنے سے اس کا مدار آہستہ آہستہ نیچے آ رہا ہے، جس کے نتیجے میں اس کے زمین کے ماحول میں داخل ہوکر جل جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

ناسا کا کہنا ہے کہ اگر سوئفٹ دوربین تباہ ہو گئی تو اسے فوری طور پر تبدیل کرنا ممکن نہیں ہوگا، کیونکہ یہ سائنسی تحقیق میں اب بھی انتہائی اہم کردار ادا کررہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ناسا کی خلائی دوربین کا ایک پرزہ خراب، مشاہدات وقتی طور پر معطل

اس ریسکیو مشن پر تقریباً 30 ملین ڈالر لاگت آئے گی، جبکہ سوئفٹ دوربین کی تیاری پر 250 ملین ڈالر خرچ ہوئے تھے۔

ناسا اور کیٹالسٹ کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر یہ مشن کامیاب رہا تو مستقبل میں ایسے سیٹلائٹس کو بھی ایندھن فراہم کرنے، ان کا مدار تبدیل کرنے، مرمت کرنے اور اپ گریڈ کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جنہیں ابتدا میں ان مقاصد کے لیے تیار نہیں کیا گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

افغانستان سے بھیجے گئے 4 ڈرونز تباہ، پاکستان نے طالبان کو خبردار کر دیا

’بیٹ مین‘ میکسیکو میں: چوروں کو ڈھونڈ کر کھمبے سے باندھ دینا اس کا مشغلہ، پولیس پیچھے لگ گئی

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اہم سرکاری دورے پر ریاض پہنچ گئے، پرتپاک استقبال

ٹاٹا ڈیٹا لیک: آئی فون 18 پرو کی خفیہ تفصیلات آن لائن منظرِ عام پر آگئیں

ٹیوشن سینٹر سانحہ: ذمہ داروں کو کوئی رعایت نہیں ملے گی، مریم نواز کا دوٹوک اعلان

ویڈیو

مودی کی آبی جارحیت پر پاکستان کا ایک بار پھر سخت ردعمل

لیاری کا جنون اور فٹ بال ورلڈ کپ، ’منی برازیل‘ اپنی ٹیم کو کیسے سپورٹ کر رہا ہے؟

سندھ طاس معاہدہ برقرار رہے گا، کیونکہ یہی خطے میں امن، استحکام اور آبی تعاون کی بنیاد ہے، عطا اللہ تارڑ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف اور محمود اچکزئی: ارادے کیا ہیں؟

جس کے ذکر سے پہلے پلکیں اشکوں سے وضو کرتی ہیں

اردو کے مہان ادیبوں کی پسندیدہ ہیروئن