فلسطینی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ القدس کی گورنریٹ نے بتایا کہ درجنوں اسرائیلی آبادکار مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئے، مختلف حصوں کا دورہ کیا اور اسرائیلی پولیس کی موجودگی میں تلمودی رسومات ادا کیں۔
فلسطینی حکام نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ مقبوضہ مشرقی القدس، بالخصوص مسجد اقصیٰ کی اسلامی اور عرب شناخت تبدیل کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے، جبکہ یہودی اسے جبلِ ہیکل قرار دیتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ یہاں ماضی میں ان کے دو قدیم معبد موجود تھے۔
فلسطینی مؤقف کے مطابق مشرقی القدس مستقبل کی آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہے، جبکہ بین الاقوامی قراردادیں 1967 میں اسرائیلی قبضے اور 1980 میں اس کے الحاق کو تسلیم نہیں کرتیں۔
یہ بھی پڑھیں: مسجد اقصیٰ میں قابض طاقت کا پرچم لہرانا قابل مذمت، پاکستان کا آزاد فلسطینی ریاست کے لیے اپنے عزم کا اعادہ
دوسری جانب اسرائیلی اخبار کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ میں تعیناتی کے لیے مذہبی یہودیوں اور دائیں بازو کے کارکنوں کی بھرتی کا عمل شروع کر دیا ہے تاکہ اس مقام پر اسرائیلی کنٹرول مزید مضبوط کیا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق مسجد اقصیٰ کی ذمہ دار پولیس یونٹ کے ایک سینئر افسر نے سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس کے ذریعے بھرتی مہم چلائی، جس میں دائیں بازو کی تنظیموں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں سے وابستہ گروپس کو بھی شامل کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: صدر زرداری کی مسجد اقصیٰ پر یلغار کی مذمت، حیثیت تبدیلی کی کوشش اشتعال انگیزی قرار
مقبوضہ القدس کی گورنریٹ نے اس اقدام کو خطرناک پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد مسجد اقصیٰ کے انتظامی اختیارات اردن کے زیر انتظام اسلامی وقف سے منتقل کر کے اسرائیلی اداروں کے ہاتھ میں دینا ہے۔
گورنریٹ نے زور دیا کہ موجودہ انتظامات کے تحت مسجد اقصیٰ کی نگرانی اور انتظام کا واحد مجاز ادارہ اردن کی وزارت اوقاف کے ماتحت اسلامی وقف ہی ہے، تاہم اسرائیلی حکام مسلسل اس کے اختیارات محدود کرنے اور مسجد کے معاملات پر اپنا کنٹرول بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔














