آزاد کشمیر کے حالات کا مکمل ادراک، ریاست میں افراتفری پھیلانا بھارت کا ایجنڈا ہے، طارق فضل چوہدری

بدھ 1 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت اور آزاد کشمیر حکومت کو موجودہ حالات کا مکمل ادراک ہے اور تمام معاملات کو سنجیدگی سے دیکھا جا رہا ہے۔ آزاد کشمیر میں ہنگامہ آرائی، فتنہ اور تشدد پھیلانا بھارت کا ایجنڈا ہے۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 2024 میں چند تاجر تنظیموں نے مل کر آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی قائم کی تھی، جس نے عوامی فلاح کے لیے بجلی اور آٹے کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ اٹھایا۔ حکومت نے کمیٹی کے دونوں بنیادی مطالبات تسلیم کرتے ہوئے بجلی کا نرخ 3 روپے فی یونٹ اور آٹے کی قیمت 2 ہزار روپے فی من مقرر کی۔

’38 میں سے 35 نکات پر عملدرآمد ہو چکا‘

وفاقی وزیر نے کہاکہ تاجر رہنماؤں کے دوسرے مارچ کے بعد حکومت اور ایکشن کمیٹی کے درمیان 38 نکات پر مشتمل معاہدہ طے پایا تھا، جس میں سے 35 نکات پر مکمل عملدرآمد ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہاکہ 20 نکات پر ایگزیکٹو آرڈرز جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ دیگر میگا منصوبوں کے لیے پی سی ون اور فنڈز کی منظوری بھی دی جا چکی ہے۔

انہوں نے کہاکہ میگا پروجیکٹس کی تکمیل میں 2 سے 3 سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔

طارق فضل چوہدری نے کہاکہ 30 جون کو ہم ایک اعلیٰ سطح وفد کے ساتھ مظفرآباد گئے اور مظفرآباد میں تاجر رہنماؤں سے 2 گھنٹے طویل ملاقات کی، جس میں انہیں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

’مہاجرین کی 12 نشستوں پر آئینی راستہ اختیار کرنے پر زور‘

وفاقی وزیر نے کہاکہ پاکستان میں مقیم مقبوضہ جموں و کشمیر کے مہاجرین کی 12 نشستوں کے معاملے پر ڈیڈ لاک پیدا ہوا، حالانکہ ان نشستوں کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔

انہوں نے کہاکہ حکومت نے اس معاملے پر سپریم کورٹ، آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی اور آل پارٹیز کانفرنس سمیت مختلف آئینی آپشنز پیش کیے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر چند ہزار افراد سڑکوں پر آ کر ان نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ کریں اور اگلے ہی روز دوسرے لوگ ان کی بحالی کا مطالبہ کریں تو ایسے فیصلے سڑکوں پر نہیں کیے جا سکتے۔

انہوں نے کہاکہ اگر ضد کے بجائے سنجیدگی سے بات چیت کی جاتی تو ممکن ہے ان 12 نشستوں کے مسئلے کا بھی کوئی حل نکل آتا۔

طارق فضل چوہدری نے کہاکہ تاجر رہنماؤں کی مقبولیت کے پلیٹ فارم کو ایسے عناصر استعمال کررہے ہیں جو پاکستان اور کشمیر کاز کے خلاف ہیں۔

انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر میں ہنگامہ آرائی، فتنہ اور تشدد پھیلانا بھارت کے ایجنڈے کا حصہ ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیاکہ انہوں نے کسی فرد کو غدار یا بھارت کا ایجنٹ قرار نہیں دیا، البتہ ان کے مطابق یہ ایجنڈا یقیناً ہندوستان کا ہے۔

’حکومت مذاکرات چاہتی تھی، ریاستی رٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا‘

وفاقی وزیر نے کہاکہ حکومت ہرگز نہیں چاہتی تھی کہ دوبارہ جانی نقصان ہو، اسی لیے حکومتی وفد خود مذاکرات کے لیے تاجر رہنماؤں کے پاس گیا۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ سڑکوں پر کسی فرد یا گروہ کا نہیں بلکہ صرف ریاست کا کنٹرول ہونا چاہیے، کیونکہ اگر سڑکوں کا کنٹرول مختلف گروہوں کے ہاتھ میں آ جائے تو پھر ریاست کا وجود برقرار نہیں رہتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp