وفاقی حکومت نے پیٹرول، ڈیزل اور ہائی اوکٹین پر کلائمیٹ سپورٹ لیوی میں اضافہ کر دیا ہے، تاہم ساتھ ہی پیٹرولیم لیوی میں اسی تناسب سے کمی کیے جانے کے باعث صارفین کے لیے ایندھن کی قیمتیں تبدیل نہیں ہوں گی۔
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق، 2 جولائی سے پیٹرول اور ڈیزل پر کلائمیٹ سپورٹ لیوی 2.50 روپے سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے، یعنی اس میں 2.50 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑی کمی کردی گئی
اس اضافے کے اثرات کو متوازن رکھنے کے لیے حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر عائد پیٹرولیم لیوی میں بھی 2.50 روپے فی لیٹر کمی کر دی ہے، جس کے نتیجے میں پمپ پر وصول کی جانے والی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
اسی طرح ہائی اوکٹین پر بھی کلائمیٹ سپورٹ لیوی میں 2.50 روپے فی لیٹر اضافہ جبکہ پیٹرولیم لیوی میں اتنی ہی کمی کی گئی ہے۔ حکومت کے مطابق یہ تبدیلیاں نظرثانی شدہ فیول لیوی فریم ورک کے تحت نافذ کی گئی ہیں، جس کا اطلاق یکم جولائی سے کیا گیا۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے گزشتہ ہفتے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بالترتیب 299.50 روپے اور 311.47 روپے فی لیٹر پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا۔
اس سے قبل 19 جون کو حکومت نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد پیٹرول کی قیمت میں 74 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے فی لیٹر کی بڑی کمی کا اعلان کیا تھا۔ اس موقع پر مٹی کے تیل (کیروسین) کی قیمت میں بھی 48.29 روپے فی لیٹر کمی کی گئی تھی، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 233.90 روپے فی لیٹر مقرر ہوئی تھی۔
مزید پڑھیں:حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان، پیٹرول اور ڈیزل سستا
حکومت کا کہنا ہے کہ تازہ اقدام ٹیکس اور لیوی کے ڈھانچے میں ردوبدل کا حصہ ہے، جبکہ عوام کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی موجودہ ریٹیل قیمتوں میں فی الحال کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔













