امریکی ٹیک کمپنی میٹا نے اپنی میسجنگ ایپ واٹس ایپ میں یوزرنیمز کے متعارف کرانے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیچر میں صارفین کو آن لائن فراڈ اور سائبر کرائم سے محفوظ رکھنے کے لیے متعدد حفاظتی پرتیں شامل کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: واٹس ایپ صارفین کے لیے خوشخبری، پرائیویسی بڑھانے کے لیے نیا فیچر متعارف
میٹا کے ترجمان نے غیر ملکی میڈیا کو بتایا کہ واٹس ایپ استعمال کرنے کے لیے صارفین کو اب بھی فون نمبر کی ضرورت ہوگی جبکہ یوزرنیمز کے ذریعے اسپام اور اسکام سرگرمیوں کو روکنے کے لیے اضافی سیکیورٹی اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔
کمپنی کے مطابق نئے نظام میں ایک صارف کی جانب سے نئے افراد سے رابطے کی حد مقرر ہوگی اور بار بار یوزرنیمز کا اندازہ لگانے کی کوششوں کو روکا جائے گا جبکہ ایسے اکاؤنٹس کو بھی شناخت کرکے ختم کیا جائے گا جو جعلسازی یا بدسلوکی کے رویوں میں ملوث ہوں۔
میٹا نے واضح کیا کہ یوزرنیم فیچر ابھی مکمل طور پر فعال نہیں ہوا اور اسے بتدریج رواں سال کے آخر میں متعارف کرایا جائے گا۔ اس سے قبل واٹس ایپ نے اسے ایک اہم پرائیویسی فیچر قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کا مقصد صارفین کو بغیر فون نمبر شیئر کیے رابطے کی سہولت دینا ہے۔
دوسری جانب بھارتی حکومت نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ فیچر آن لائن فراڈ، فشنگ، ڈیجیٹل اریسٹ اسکیمز اور شناخت کی جعلسازی میں اضافہ کر سکتا ہے۔
مزید پڑھیے: کیا بغیر میسج کیے پتا چل سکتا ہے کہ آپ بلاک ہیں؟ واٹس ایپ کے نئے فیچر نے صارفین میں تجسس پیدا کردیا
بھارتی خبر رساں ادارے کے مطابق حکومت نے واٹس ایپ کو 3 دن کے اندر تفصیلی وضاحت جمع کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے فیچر کی رول آؤٹ عارضی طور پر روکنے کا بھی کہا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق بھارت میں واٹس ایپ کے 50 کروڑ سے زائد صارفین موجود ہیں جس کے باعث یہ پلیٹ فارم حکومتی نگرانی کے دائرے میں زیادہ آتا ہے۔
ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ یوزرنیم فیچر کے ذریعے جعلی شناخت کے ساتھ غلط معلومات اور اسکیمز کے پھیلنے کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔
میٹا نے ان خدشات کے جواب میں کہا ہے کہ وہ معروف اور پاپولر یوزرنیمز کو محفوظ رکھے گا تاکہ صرف اصل مالکان ہی انہیں حاصل کر سکیں جبکہ جعلی یا ملتے جلتے ناموں کو بھی محدود کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: واٹس ایپ میں ویو ونس ٹیکسٹ میسجز اور نیا وائس نوٹ ویجٹ متعارف کرانے کی آزمائش
واضح رہے کہ حالیہ برسوں کے دوران سائبر کرائم میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث ح حکومتیں خصوصاً بھارت کی حکومت ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر سخت نگرانی اور ریگولیشنز پر زور دے رہی ہے۔














