سندھ ہائیکورٹ نے کراچی کے کلسوم بائی والیکا سیسی اسپتال میں آلودہ سرنجوں کے مبینہ دوبارہ استعمال اور شدید طبی غفلت کے باعث درجنوں بچوں میں ایچ آئی وی پھیلنے کے لرزہ خیز معاملے پر سخت نوٹس لے لیا ہے۔
عدالتِ عالیہ نے صوبائی سیکریٹری صحت اور انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس سندھ سے اس مبینہ سانحے پر تفصیلی رپورٹس طلب کر لی ہیں۔
2 رکنی بینچ کے روبرو ہولناک حقائق کا انکشاف
روزنامہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق یہ احکامات جسٹس عدنان الکریم میمن اور جسٹس عدنان اقبال چوہدری پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے شہری طارق منصور کی جانب سے دائر کردہ مفادِ عامہ کی درخواست پر سماعت کے دوران جاری کیے۔
درخواست گزار کے مطابق سندھ ایمپلائز سوشل سیکیورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) کے زیرِ انتظام چلنے والے اس اسپتال میں بیمہ شدہ مزدوروں کے بچوں کا علاج کیا جا رہا تھا، جہاں مبینہ غفلت کے باعث 84 سے زیادہ اور ممکنہ طور پر 200 سے زیادہ بچے ایچ آئی وی کا شکار ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد بچوں کی ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے باوجود حکومتی خاموشی پر سوالات
درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ میڈیا میں مسلسل رپورٹس آنے اور نومبر 2025 سے یہ معاملہ سامنے ہونے کے باوجود، سندھ حکومت نے اب تک نہ تو کوئی شفاف اور آزادانہ تحقیقات کرائیں اور نہ ہی ذمہ دار ڈاکٹروں یا عملے کے خلاف کوئی مؤثر قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔
عدالت نے سندھ حکومت کی جانب سے جواب جمع کرانے کے لیے مہلت کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کی سماعت 20 جولائی تک ملتوی کر دی۔
آئینی حقوق کی پامالی اور درخواست گزار کے مطالبات
درخواست میں آئینِ پاکستان کے مختلف آرٹیکلز کے تحت شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی استدعا کی گئی ہے۔ مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ڈسپوزایبل سرنجوں کا دوبارہ استعمال ’سندھ ریگولیشن اینڈ کنٹرول آف ڈسپوزایبل سرنجز ایکٹ 2010‘ کی کھلی خلاف ورزی اور پاکستان پینل کوڈ کے تحت مجرمانہ غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔
عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ واقعے کی آزاد اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔ ذمہ دار عملے کے خلاف فوری طور پر فوجداری مقدمات درج کیے جائیں۔
متاثرہ بچوں کو تاحیات مفت علاج اور مناسب مالی معاوضہ دیا جائے۔ صوبے بھر میں ڈسپوزایبل سرنجز ایکٹ پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے۔
متاثرہ والدین کا کراچی پریس کلب میں احتجاج
ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی پھیلنے کی اطلاعات پہلی بار نومبر 2025 میں سامنے آئی تھیں، تاہم صوبائی حکام نے ابتدائی طور پر کسی بڑے پھیلاؤ کی تردید کی تھی۔
حال ہی میں متاثرہ بچوں کے والدین نے کراچی پریس کلب کے باہر احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے بتایا کہ تقریباً 200 بچے اس غفلت کا شکار ہوئے ہیں جن میں سے کم از کم 9 بچوں کی اموات ہو چکی ہیں۔ والدین نے عملے کے خلاف فوری ایف آئی آر درج کرنے اور بچوں کے مفت علاج کا مطالبہ کیا ہے۔
کراچی کے دیگر اسپتالوں میں بھی ایچ آئی وی کیسز کا ہولناک اضافہ
میڈیا رپورٹ کے مطابق اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کراچی کے مختلف اسپتالوں میں گزشتہ چند برسوں کے دوران بچوں میں ایچ آئی وی کے کیسز میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔
سندھ انفیکشنس ڈیزیزز اسپتال میں 2024 میں 10 جبکہ 2025 میں 70 سے زیادہ بچے داخل ہوئے اور رواں سال مزید 30 کیسز رپورٹ ہوئے۔
انڈس اسپتال میں 2024 میں 144 اور 2025 میں 176 بچوں کا علاج کیا گیا، جبکہ ایک اور بڑے اسپتال میں 60 سے زیادہ بچوں میں تصدیق ہوئی جن کا تعلق ٹھٹھہ اور دیہی سندھ سے تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سندھ انفیکشنس ڈیزیزز اسپتال میں زیرِ علاج بیشتر بچے پہلے ولیکا اسپتال سے ہی علاج کروا چکے تھے۔
ماضی کے تلخ تجربات اور غیر محفوظ طبی طریقے
پاکستان میں غیر محفوظ طبی طریقوں اور سرنجوں کے دوبارہ استعمال کے باعث ایچ آئی وی پھیلنے کی ایک تلخ تاریخ ہے۔
اس سے قبل 2019 میں سندھ کے علاقے رتوڈیرو میں سینکڑوں بچے ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے تھے، جہاں عالمی ادارۂ صحت کی تحقیقات میں آلودہ سرنجوں کا بار بار استعمال بنیادی وجہ قرار پایا تھا۔
اسی طرح پنجاب کے تحصیل ہیڈکوارٹر اسپتال تونسہ میں بھی بی بی سی کی تحقیق کے مطابق غیر محفوظ طبی طریقوں کے باعث 331 بچے ایچ آئی وی کا شکار ہوئے تھے۔
اب سندھ ہائیکورٹ کی آئندہ سماعت میں حکومت کی رپورٹ یہ طے کرے گی کہ ولیکا اسپتال کے ذمہ داران کے خلاف کیا تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔














