امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صاحبزادے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کی سرمایہ کاری والی آن لائن اسلحہ فروخت کرنے والی کمپنی ’گریب اے گن‘ کو امریکی حکومت کی مجوزہ نئی پالیسی سے بڑا مالی فائدہ پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مجوزہ قواعد کے تحت پہلی بار مخصوص شرائط کے ساتھ اسلحہ براہِ راست خریداروں کے گھروں تک پہنچانے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔
امریکی حکومت نے اسلحہ فروخت کے قواعد میں ایک اہم تبدیلی کی تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت لائسنس یافتہ ڈیلرز مخصوص شرائط پوری کرنے والے خریداروں کو اسلحہ براہِ راست ان کے گھروں تک بھیج سکیں گے۔ اگر یہ تجویز منظور ہو گئی تو اسے گزشتہ 2 دہائیوں میں امریکی اسلحہ پالیسی کی اہم ترین تبدیلیوں میں شمار کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے معروف کاروباری شخصیت بیٹینا اینڈرسن سے منگنی کرلی
رائٹرز کے مطابق اس مجوزہ تبدیلی سے آن لائن اسلحہ فروخت کرنے والی کمپنی ’گریب اے گن‘ کو نمایاں مالی فائدہ پہنچ سکتا ہے، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صاحبزادے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر شیئر ہولڈر اور بورڈ رکن ہیں۔ کمپنی کو گزشتہ سال اسٹاک مارکیٹ میں متعارف کرایا گیا تھا اور ماہرین کے مطابق نئے قواعد آن لائن اسلحہ فروخت میں نمایاں اضافہ کر سکتے ہیں۔
مجوزہ پالیسی کے تحت خریداروں کو آن لائن شناختی تصدیق، بیک گراؤنڈ چیک اور مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اطلاع دینے کے بعد 7 دن انتظار کرنا ہوگا، جس کے بعد اسلحہ براہِ راست ان کے گھر بھیجا جا سکے گا۔ موجودہ قانون کے مطابق آن لائن خریدے گئے اسلحے کی وصولی کے لیے خریدار کو لازماً کسی مجاز اسلحہ ڈیلر کے پاس جا کر بیک گراؤنڈ چیک مکمل کرنا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:’ٹرمپ جونیئر‘ کے ہیک شدہ اکاؤنٹ سے والد کے انتقال کی خبر وائرل
ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کے ترجمان نے کہا ہے کہ ان کا اس مجوزہ پالیسی کی تیاری میں کوئی کردار نہیں تھا اور وہ حکومت کے ساتھ اس حوالے سے کسی قسم کے رابطے میں نہیں رہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو مارک نیماتی نے بھی کہا کہ انہیں اس تجویز کا پہلے سے علم نہیں تھا، تاہم کمپنی اس کے ممکنہ معاشی اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔
دوسری جانب اسلحہ پر کنٹرول کے حامی اداروں، چھوٹے اسلحہ فروشوں اور بعض ماہرین نے اس تجویز پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق گھروں تک اسلحہ کی ترسیل سے غیر قانونی خرید و فروخت، ڈاکے اور اسلحہ غلط ہاتھوں میں جانے کے خدشات بڑھ سکتے ہیں، جبکہ چھوٹے اسلحہ فروشوں کا کاروبار بھی متاثر ہوگا۔
مجوزہ قواعد فی الحال عوامی مشاورت کے مرحلے میں ہیں، جو اگست کے آغاز تک جاری رہے گی، جبکہ حتمی فیصلہ رواں سال کے آخر یا 2027 کے اوائل میں متوقع ہے۔














