صدر آصف علی زرداری کی وزیراعلیٰ بلوچستان سے ملاقات میں خاص کیا تھا؟

ہفتہ 4 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صدر مملکت آصف علی زرداری نے بدھ کے روز وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ایک اہم اعلیٰ سطحی ملاقات کی جس میں دونوں صوبوں سے متعلق اہم امور، بین الصوبائی تعاون، باہمی دلچسپی کے معاملات اور ملک کی مجموعی سلامتی و استحکام پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: دشت واقعہ: سرفراز بگٹی کی مرحوم تاجر علی مرتضیٰ کے گھر آمد، بچیوں کی کفالت کا اعلان

ذرائع کے مطابق یہ ملاقات بالخصوص بلوچستان کے تناظر میں خاصی اہم سمجھی جا رہی تھی کیونکہ سندھ اور بلوچستان نہ صرف طویل سرحد کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں بلکہ دونوں صوبوں کو دہشت گردی، سرحدی نقل و حرکت، اسمگلنگ اور معاشی راہداریوں کے تحفظ جیسے مشترکہ چیلنجز بھی درپیش ہیں۔

اگرچہ سرکاری اعلامیے میں بین الصوبائی ہم آہنگی، ترقی اور قومی یکجہتی پر زور دیا گیا تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں دہشتگردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی، سندھ اور بلوچستان کے درمیان سیکیورٹی تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ اور سرحدی نگرانی کو مزید مؤثر بنانے پر خصوصی غور کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق بلوچستان میں حالیہ سیکیورٹی صورتحال اور بیرونی خطرات کے تناظر میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں صوبوں کے درمیان مربوط تعاون دہشت گرد عناصر کی نقل و حرکت روکنے، اہم شاہراہوں اور اقتصادی منصوبوں کے تحفظ اور امن و امان کی مجموعی صورتحال کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

ملاقات کے دوران صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ بین الصوبائی تعاون کو فروغ دینے سے ملک کے استحکام اور ترقی کے لیے جاری کوششیں مزید مضبوط ہوں گی۔

مزید پڑھیے: بلوچستان کے زلزلہ متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان مؤثر رابطہ، اعتماد اور قریبی تعاون قومی یکجہتی اور پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بلوچستان ایک مرتبہ پھر سیکیورٹی اور امن و امان کے حوالے سے اہم چیلنجز سے دوچار ہے جبکہ سندھ بھی بعض سیکیورٹی خدشات اور سرحدی نوعیت کے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں دونوں صوبوں کی سیاسی اور انتظامی قیادت کا ایک ہی میز پر بیٹھنا معمول کی ملاقات سے بڑھ کر ایک اہم سیاسی اور سیکیورٹی پیشرفت تصور کیا جا رہا ہے۔

سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس ملاقات میں زیر بحث آنے والے سیکیورٹی تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ اور مشترکہ حکمت عملی پر عملی پیشرفت ہوتی ہے تو اس سے نہ صرف دونوں صوبوں کے درمیان رابطے مضبوط ہوں گے بلکہ دہشتگردی اور منظم جرائم کے خلاف کارروائیوں میں بھی بہتر نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’بلوچستان امن چاہتا ہے‘، وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کا افغان حکومت کو سخت پیغام

سیاسی لحاظ سے بھی یہ ملاقات اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ وفاقی قیادت صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کو قومی استحکام کا بنیادی ستون سمجھ رہی ہے۔ تاہم اس تعاون کی کامیابی کا انحصار صرف اعلانات پر نہیں بلکہ اس بات پر ہوگا کہ مشترکہ فیصلوں کو کس حد تک عملی شکل دی جاتی ہے اور ان کے نتائج عوام تک کس رفتار سے پہنچتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp