دیامر بھاشا ڈیم منصوبے میں 25.744 ملین روپے سے زائد کی بے ضابطگی کا انکشاف

ہفتہ 4 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آڈٹ حکام نے دیامر بھاشا ڈیم منصوبے میں غیر مجاز طور پر منصوبے سے باہر تعینات افسران کو منسلک کرنے اور انہیں منصوبے کے فنڈز سے تنخواہیں و الاؤنسز ادا کرنے کے باعث 25.744 ملین روپے کی بے ضابطہ اخراجات کی نشاندہی کی ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق منصوبے کے منظور شدہ پی سی ون میں اسلام آباد کے رابطہ دفتر میں چیئرمین واپڈا کے لیے اسٹاف آفیسرز کی کوئی آسامی موجود نہیں تھی۔

اسی طرح لاجسٹکس سیل کے لیے صرف ایک چیف لاجسٹک آفیسر کی منظوری دی گئی تھی، جبکہ ایڈوائزر (ہیومن ریسورسز اینڈ لاجسٹکس) کی کوئی پوسٹ بھی پی سی ون میں شامل نہیں تھی۔

یہ بھی پڑھیں: ’معاشی خود انحصاری کا انحصار پانی و توانائی کے ذخائر پر ہے‘، وزیراعظم کا دیامر بھاشا ڈیم کی فوری تکمیل کا حکم

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منصوبے کی انتظامی منظوری کے پیرا-5 کے تحت عمل درآمد کے دوران تمام قواعد و ضوابط پر سختی سے عمل کرنا لازمی تھا۔

مزید برآں، واپڈا بجٹ مینوئل کے پیرا 9.3.23 کے مطابق اتھارٹی اور اس کے مرکزی دفاتر کے اخراجات منصوبوں پر مقررہ شرح کے مطابق اوور ہیڈ لاگت کے ذریعے پورے کیے جانے چاہییں۔

جولائی 2024 سے جون 2025 تک چیف ایگزیکٹو آفیسر/جنرل منیجر دیامر بھاشا ڈیم کنسلٹنسی اور جنرل منیجر (لینڈ ایکوزیشن اینڈ ری سیٹلمنٹ) چلاس کے اکاؤنٹس کے آڈٹ کے دوران معلوم ہوا کہ ڈائریکٹر (سول) اور ڈپٹی ڈائریکٹر (پبلک ریلیشنز) کو بالترتیب 9 ستمبر 2021 اور 22 ستمبر 2022 سے چیئرمین واپڈا کے اسلام آباد دفتر میں بطور اسٹاف آفیسر تعینات کیا گیا، حالانکہ وہ منصوبے پر خدمات انجام نہیں دے رہے تھے۔

اسی طرح یکم دسمبر 2020 کو دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کے لیے تعینات کیے گئے چیف لاجسٹک آفیسر کو بعد ازاں 11 اکتوبر 2022 کو جنرل منیجر (LA&R/HRD) واپڈا کا اضافی چارج دے کر لاہور میں تعینات کر دیا گیا۔

بعد میں 31 جنوری 2025 کو انہیں ایڈوائزر (ہیومن ریسورسز اینڈ لاجسٹکس) مقرر کیا گیا، حالانکہ یہ عہدہ پی سی ون میں موجود ہی نہیں تھا، اور وہ چلاس کے بجائے لاہور میں خدمات انجام دیتے رہے۔

مزید پڑھیں: دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر میں اہم پیشرفت، دریائے سندھ کا رخ کامیابی سے موڑ دیا گیا

آڈٹ کے مطابق مذکورہ افسران دیامر بھاشا ڈیم منصوبے پر کام نہیں کر رہے تھے اور نہ ہی منصوبے سے متعلق کوئی ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے، اس کے باوجود انہیں منصوبے کے فنڈز سے 2 کروڑ 57 لاکھ 44 ہزار روپے تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ادا کیے گئے، جن میں 1 کروڑ 77 لاکھ 17 ہزار روپے اور 80 لاکھ 27 ہزار روپے شامل ہیں۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق پی سی-ون کی شقوں اور متعلقہ قواعد پر عمل نہ کرنے کے باعث مالی سال 25-2024 تک یہ بے ضابطہ اخراجات جاری رہے۔

یہ معاملہ ستمبر 2025 میں واپڈا انتظامیہ کے سامنے اٹھایا گیا جبکہ دسمبر 2025 میں وزارت آبی وسائل کو بھی آگاہ کیا گیا۔ انتظامیہ نے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ افسران کو اتھارٹی کے بہترین مفاد میں چیئرمین کے دفتر میں تعینات کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کی اجازت اور خواہش کے باوجود پاکستان میں ڈیموں کی تعمیر میں رکاوٹیں کیا ہیں؟

تاہم آڈٹ حکام نے اس جواب کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد اور لاہور میں ان افسران کی تعیناتی پی سی ون کی واضح خلاف ورزی تھی۔

آڈٹ اعتراض (PDP-219/2025-26) پر 23 جنوری 2026 کو محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں بھی غور کیا گیا، تاہم آڈٹ رپورٹ کی تکمیل تک وزارت آبی وسائل کے پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر کی جانب سے اجلاس کے منٹس فراہم نہیں کیے گئے۔

آڈٹ نے سفارش کی ہے کہ منصوبے کے فنڈز سے ان افسران کی تنخواہوں کی ادائیگی فوری طور پر بند کی جائے اور پہلے سے ادا کی گئی 2 کروڑ 57 لاکھ 44 ہزار روپے کی رقم واپڈا کے کوارڈینیشن ونگ سے وصول کی جائے، کیونکہ اتھارٹی کے انتظامی اخراجات کی ادائیگی اسی ونگ کی ذمہ داری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp