متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کی جانب سے اپنے مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں حکومت سے علیحدگی کا عندیہ دیتے ہوئے اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کی وارننگ دی گئی ہے۔
ایم کیو ایم کے سینیئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار کا پریس کانفرنس کے دوران کہنا تھا کہ اگر لاپتا کارکنوں، سندھ کی گورنر شپ، آرٹیکل 140 اے اور دیگر وعدوں پر عملدرآمد نہ ہوا تو ایم کیو ایم اسپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھ کر اپنے 22 ارکان کے لیے اپوزیشن بینچوں پر نشستیں مختص کرنے کی درخواست کرےگی۔
مزید پڑھیں: ایم کیو ایم کا اپوزیشن میں جانے کا عندیہ، فاروق ستار کا وفاق کو الٹی میٹم
دوسری جانب پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم کے مؤقف کو سیاسی بلیک میلنگ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اتحادی جماعت اپنی ناکامیوں کا ملبہ سندھ حکومت پر ڈالنے کے بجائے وفاق سے جواب طلب کرے۔
ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایم کیو ایم کی یہ وارننگ کس حد تک سنجیدہ ہے؟ کیا ماضی میں بھی ایم کیو ایم اس نوعیت کی دھمکیاں دیتی رہی ہے؟ اگر ہاں، تو موجودہ صورتحال اس سے کس حد تک مختلف ہے؟
ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے حکومت سے علیحدگی اور اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کی وارننگ نے ایک بار پھر حکومتی اتحاد کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگرچہ ماضی میں بھی ایم کیو ایم مختلف اوقات میں اپنے تحفظات اور مطالبات کے حق میں سخت مؤقف اختیار کرتی رہی ہے، تاہم اس بار پارٹی نے باقاعدہ پارلیمانی حکمتِ عملی تبدیل کرنے کا عندیہ دے کر سیاسی دباؤ میں اضافہ کردیا ہے۔
ایم کیو ایم کی وارننگ کو وقتی سیاسی بیان سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، ماجد نظامی
سیاسی تجزیہ کار ماجد نظامی کے مطابق ایم کیو ایم کی حالیہ وارننگ کو محض ایک وقتی سیاسی بیان سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، تاہم اس کا مقصد فوری طور پر حکومت سے علیحدگی اختیار کرنا بھی نہیں دکھائی دیتا۔
ان کے مطابق ایم کیو ایم ماضی میں بھی متعدد بار وفاقی حکومتوں پر دباؤ بڑھانے کے لیے اسی نوعیت کے بیانات اور ڈیڈ لائنز دیتی رہی ہے تاکہ اپنے سیاسی، انتظامی اور آئینی مطالبات پر پیشرفت یقینی بنائی جا سکے۔
ماجد نظامی کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال ماضی سے اس لیے مختلف ہے کیونکہ اس وقت وفاقی حکومت کی پارلیمانی پوزیشن پہلے ہی زیادہ مضبوط نہیں، اس لیے اتحادی جماعتوں کی ناراضی حکومت کے لیے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔
ان کے مطابق ایم کیو ایم بھی اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ حکومت سے علیحدگی اس کے لیے بھی سیاسی خطرات پیدا کر سکتی ہے، اسی لیے غالب امکان یہی ہے کہ پارٹی اپنی مذاکراتی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ آنے والے دنوں میں اگر حکومت ایم کیو ایم کے اہم مطالبات، خصوصاً لاپتا کارکنوں، آرٹیکل 140 اے پر عملدرآمد، سندھ میں اختیارات کی منتقلی اور دیگر سیاسی وعدوں پر کوئی واضح پیشرفت دکھانے میں ناکام رہتی ہے تو دونوں اتحادیوں کے درمیان اختلافات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ فی الحال دونوں فریقوں کے لیے مذاکرات کا دروازہ بند نہیں ہوا، اس لیے حتمی فیصلہ آئندہ سیاسی رابطوں اور حکومتی ردعمل پر منحصر ہوگا۔
ایم کیو ایم پاکستان موجودہ سیاسی صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہی ہے، احمد ولید
سیاسی تجزیہ کار احمد ولید کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان موجودہ سیاسی صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہی ہے۔
انہوں نے کہاکہ حالیہ دنوں میں حکومت کی سیاسی اور معاشی مشکلات پر مسلسل بحث جاری ہے، حکومت کے مستقبل سے متعلق قیاس آرائیاں بھی سامنے آ رہی ہیں، اور اسی ماحول میں ایم کیو ایم نے اپنے دیرینہ مطالبات کو دوبارہ شدت سے اٹھانا شروع کر دیا ہے۔
احمد ولید نے کہاکہ ایم کیو ایم کے موجودہ مطالبات میں لاپتا کارکنوں کی بازیابی، سندھ کی گورنر شپ، آرٹیکل 140 اے پر عملدرآمد اور بلدیاتی اختیارات جیسے معاملات شامل ہیں۔
ان کے مطابق یہ ایسے مطالبات نہیں جن پر مذاکرات کے ذریعے پیشرفت نہ ہو سکے، بلکہ حکومت اور ایم کیو ایم باہمی بات چیت کے ذریعے ان معاملات کا حل نکال سکتے ہیں۔
ان کے نزدیک موجودہ صورتحال ابھی اس نہج پر نہیں پہنچی کہ ایم کیو ایم حقیقتاً حکومت سے علیحدگی اختیار کر لے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اپوزیشن بینچوں پر بیٹھنے کی وارننگ بنیادی طور پر حکومت پر دباؤ بڑھانے اور اپنے مطالبات منوانے کی ایک سیاسی حکمت عملی ہے، نہ کہ فوری طور پر اتحاد ختم کرنے کا فیصلہ ہے۔
احمد ولید نے مزید کہاکہ ماضی کی طرح اس بار بھی ایم کیو ایم خود کو ایک مؤثر پریشر گروپ کے طور پر پیش کررہی ہے تاکہ اتحادی حکومت میں اپنی سیاسی اہمیت برقرار رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ رعایتیں اور اپنے مطالبات تسلیم کرا سکے۔
ان کے بقول موجودہ وفاقی حکومت اتحادی جماعتوں کے تعاون سے قائم ہے، اس لیے ایم کیو ایم اپنی مذاکراتی پوزیشن مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم ان کے خیال میں فی الحال ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ پارٹی نے حکومت سے علیحدگی کا حتمی فیصلہ کر لیا ہو۔
لگتا نہیں کہ ایم کیو ایم حکومت سے علیحدہ ہونا چاہتی ہے، ابصار عالم
سیاسی تجزیہ کار ابصار عالم کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کی حالیہ وارننگ کو حکومت سے فوری علیحدگی کے اشارے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ اس کا بنیادی مقصد اپنے سیاسی مطالبات منوانے کے لیے حکومت پر دباؤ بڑھانا ہے۔
ان کے بقول یہ سیاسی جماعتوں کی معمول کی حکمتِ عملی ہوتی ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے حق میں سخت مؤقف اختیار کرتی ہیں۔
ابصار عالم کا کہنا ہے کہ کراچی کے شہری طویل عرصے سے بنیادی شہری مسائل کا سامنا کررہے ہیں اور بہتر طرزِ زندگی کے خواہاں ہیں، تاہم انہیں مسائل کے حل کی کوئی واضح سمت دکھائی نہیں دے رہی۔
انہوں نے کہاکہ ایم کیو ایم اسی عوامی بے چینی کو سیاسی طور پر استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے، جبکہ ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے درمیان جاری اختلافات کا براہِ راست اثر بھی کراچی کے شہریوں پر پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ماضی میں بھی ایم کیو ایم مختلف مواقع پر اسی نوعیت کے بیانات اور دباؤ کی سیاست اختیار کرتی رہی ہے، اس لیے موجودہ وارننگ کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
ابصار عالم کے مطابق فی الحال ایسا دکھائی نہیں دیتا کہ ایم کیو ایم حقیقتاً حکومت سے علیحدگی اختیار کرنا چاہتی ہے، کیونکہ اس سے وفاقی حکومت فوری طور پر عدم استحکام کا شکار نہیں ہوگی۔
مزید پڑھیں: کامران ٹیسوری کو کیوں ہٹایا؟ وزیراعظم سے ملاقات میں ایم کیو ایم کا سوال
ان کے بقول جب تک پیپلز پارٹی کی حمایت حکومت کو حاصل ہے، حکومت کے لیے کوئی بڑا پارلیمانی خطرہ موجود نہیں۔ مزید یہ کہ وفاقی بجٹ بھی منظور ہو چکا ہے، اس لیے مستقبل قریب میں ایسی کوئی اہم قانون سازی نظر نہیں آتی جس کے لیے حکومت کو لازماً ایم کیو ایم کی حمایت درکار ہو۔
ابصار عالم نے کہاکہ ایم کیو ایم کا موجودہ بیان زیادہ تر سیاسی دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی معلوم ہوتا ہے، ایسی نہیں کہ حکومت سے علیحدگی کا حکومتی فیصلہ ہو چکا ہو۔














