متحدہ عرب امارات میں مہنگی قیمت کے باوجود پاکستانی آم کی مانگ میں مسلسل اضافہ

پیر 6 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

متحدہ عرب امارات میں اس موسمِ گرما پاکستانی آم گزشتہ برس کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد مہنگے فروخت ہو رہے ہیں تاہم قیمتوں میں اضافے کے باوجود ان کی مانگ میں کوئی کمی نہیں آئی۔

تاجروں کے مطابق پاکستان میں آم کی پیداوار میں 20 سے 30 فیصد کمی سیزن کے تاخیر سے آغاز اور بڑھتے ہوئے فضائی و بحری مال برداری کے اخراجات نے قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ بنے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستانی آم اپنی منفرد مٹھاس، خوشبو اور ذائقے کے باعث مقامی اور غیرملکی صارفین میں بدستور مقبول ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایرانی سڑکوں پر پاکستانی آم دیکھ کر پاکستانی سفیر خوشی سے سرشار

پاکستان سپر مارکیٹ ایل ایل سی کے ڈائریکٹر گل رئیس یاسین کے مطابق پاکستانی آموں کی طلب ہر سال بڑھ رہی ہے اور اب صرف پاکستانی ہی نہیں بلکہ مختلف قومیتوں کے خریدار بھی خاص طور پر سندھڑی، چونسہ اور انور رٹول جیسی اقسام خریدنے آتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 3 سے 3.5 کلوگرام کے سندھڑی آم کا ڈبہ، جو گزشتہ برس 40 سے 45 درہم میں فروخت ہوتا تھا اب تقریباً 50 درہم میں دستیاب ہے جبکہ فضائی راستے سے درآمد کیے جانے والے چونسہ اور انور رٹول آموں کی قیمت 60 سے 65 درہم سے بڑھ کر تقریباً 70 درہم فی ڈبہ ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: قطر کے خاص فیسٹیول میں رسیلے پاکستانی آم کی دھوم

ان کے مطابق فضائی کارگو کی لاگت تقریباً 350 پاکستانی روپے فی کلو سے بڑھ کر 500 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ سیزن کے آغاز میں کارگو کی محدود دستیابی نے بھی درآمدی لاگت میں اضافہ کیا۔

دوسری جانب Choithrams کے ہیڈ آف کمرشل برائن بالنگر نے بتایا کہ اس سال پاکستانی آموں کا سیزن معمول سے تقریباً دو ہفتے تاخیر سے شروع ہوا جبکہ مجموعی پیداوار میں 20 سے 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ان کے مطابق محدود سپلائی کے باوجود پاکستانی آموں کی فروخت مضبوط رہی اور صارفین کی دلچسپی میں کوئی نمایاں کمی نہیں آئی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی آموں کی چین میں دھوم، دوسری کھیپ گوانگسی پہنچ گئی

درآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ ابتدائی دنوں میں بحری جہازوں کی تاخیر اور کارگو مسائل کے باعث انہیں زیادہ تر آم فضائی راستے سے منگوانا پڑے جس سے قیمتیں بعض اوقات گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً دوگنا تک پہنچ گئیں۔ بعد ازاں بحری ترسیل بحال ہونے سے قیمتوں میں کچھ کمی ضرور آئی تاہم وہ اب بھی گزشتہ سال سے زیادہ ہیں۔

تاجروں کے مطابق پاکستانی آموں کا سیزن صرف دو سے اڑھائی ماہ پر مشتمل ہوتا ہے اسی لیے صارفین قیمتوں میں اضافے کے باوجود انہیں خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ سندھڑی، چونسہ اور انور رٹول بدستور اماراتی مارکیٹ میں سب سے زیادہ پسند کی جانے والی اقسام ہیں جبکہ گھروں، دفاتر اور تحائف کے طور پر بھی پاکستانی آموں کی مانگ برقرار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

دنیا کے تیز ترین موٹرائزڈ لکڑی کے جوتے نے 70 میل فی گھنٹہ کی رفتار کا ریکارڈ قائم کردیا

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘

قائداعظم کی بیماری: سازشی تھیوری دم توڑ گئی