انٹربینک مارکیٹ میں منگل کے روز پاکستانی روپے نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری دکھائی اور کاروبار کے اختتام پر ڈالر کی قدر ایک پیسے کمی کے بعد 278 روپے 10 پیسے پر بند ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: آپریشن سندور کے بعد بھارتی روپیہ پاکستانی کرنسی کے مقابلے میں تقریباً 12 فیصد گرگیا
پیر کے روز انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 278 روپے 11 پیسے پر بند ہوا تھا، عالمی مالیاتی منڈیوں میں امریکی ڈالر دباؤ کا شکار رہا، کیونکہ سرمایہ کاروں نے توقعات کم کردی ہیں کہ امریکی مرکزی بینک رواں سال شرح سود میں مزید نمایاں اضافہ کرے گا۔ اس کی وجہ امریکہ میں توقعات سے کمزور روزگار کے اعداد و شمار کو قرار دیا جارہا ہے۔
یورو کی قدر میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی پاؤنڈ بھی دو ہفتوں سے زائد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ مختلف عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کا اشاریہ 100.86 کی سطح پر رہا۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ تاجروں کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے پر خدشات کے باعث تیل کی قیمتوں کو سہارا ملا، اگرچہ آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کی صورتحال میں معمولی بہتری بھی سامنے آئی۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کا امریکی ڈالر پر کیا اثر پڑ رہا ہے؟
برینٹ خام تیل کی قیمت ایک ڈالر دو سینٹ اضافے کے بعد 73 ڈالر ایک سینٹ فی بیرل جبکہ امریکی خام تیل 93 سینٹ مہنگا ہو کر 69 ڈالر 48 سینٹ فی بیرل تک پہنچ گیا۔ ماہرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق غیر یقینی صورتحال تیل کی قیمتوں کو سہارا دے رہی ہے۔














