پاکستان میں پیٹرولیم قیمتوں کے تعین کا نظام بدلنے کی تیاری، اب قیمتیں کیسے طے ہوں گی؟

بدھ 8 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین میں اپنا کردار محدود کرتے ہوئے انہیں مارکیٹ کے اصولوں کے مطابق لانے کا عندیہ دے دیا ہے۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی کی منظوری کے بعد ملک میں جدید ریفائنری نظام اور یورو فائیو معیار کے ایندھن کی تیاری کا عمل شروع ہو جائے گا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی منظوری کے لیے کابینہ کو بھجوا دی گئی ہے، جسے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) سے 15 جولائی تک منظوری ملنے کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ پالیسی کی منظوری کے بعد ریفائنریوں کو جدید بنانے کا طویل عرصے سے زیر التوا عمل شروع ہو جائے گا، جس کے نتیجے میں پاکستان میں یورو فائیو معیار کے ایندھن کی پیداوار ممکن ہو سکے گی۔

علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت ریفائنریوں کی موجودہ خامیوں یا غیر مؤثر کارکردگی کا بوجھ صارفین پر منتقل نہیں کرے گی اور عوام کو اضافی مالی دباؤ سے تحفظ فراہم کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے پیٹرول کی طلب میں کمی، قیمتوں میں کمی کی امیدیں بڑھ گئیں

وزیر پٹرولیم نے کہا کہ پاکستان گزشتہ 2 دہائیوں سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اعلان شفاف طریقے سے کرتا آ رہا ہے، تاہم اب مرحلہ وار قیمتوں کے نظام کو آزاد مارکیٹ کے اصولوں کے مطابق لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی پیٹرولیم قیمتوں کے نظام میں اصلاحات کا جائزہ لینے کے لیے اب تک 3 اجلاس کر چکی ہے، جس میں روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں ظاہر کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

وزیر پیٹرولیم کے مطابق عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آ چکی ہیں، تاہم پاکستان کی درآمدی ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات پر زیادہ انحصار کے باعث ایندھن کی قیمتیں اب بھی بلند ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی ڈیزل کی ضروریات کا تقریباً 33 فیصد جبکہ پیٹرول کی کھپت کا تقریباً 70 فیصد درآمد کرتا ہے۔ حالیہ عالمی بحران کے دوران پریمیم، انشورنس اور شپنگ اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کا اثر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر پڑا۔

علی پرویز ملک نے بتایا کہ پیٹرولیم لیوی اور کاربن لیوی کی شرحیں اس وقت 27 فروری کو مقرر کردہ سطح سے کم ہیں، تاہم درآمدی ریفائنڈ مصنوعات مہنگی ہونے کی وجہ سے ایندھن کی قیمتیں سابقہ سطح پر واپس نہیں آ سکیں۔

یہ بھی پڑھیے عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مزید کم ہوئیں تو ریلیف عوام کو منتقل کریں گے، وزیر پیٹرولیم

دوسری جانب قائمہ کمیٹی نے سندھ اور بلوچستان میں پیٹرولیم کمپنیوں کے اربوں روپے کے غیر استعمال شدہ کارپوریٹ سوشل رسپانسبلٹی (سی ایس آر) فنڈز پر تشویش کا اظہار کیا۔

اجلاس کی صدارت سید مصطفیٰ محمود نے کی۔ صوبائی حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ کو پیٹرولیم کمپنیوں سے سی ایس آر فنڈز 2020-21 سے ملنا شروع ہوئے، تاہم واضح قواعد و ضوابط نہ ہونے کے باعث ان کا مکمل استعمال نہیں ہو سکا۔

حکام نے بتایا کہ بلوچستان میں بھی تقریباً 3 ارب روپے کے سی ایس آر فنڈز فورس میجر (غیر معمولی حالات) کے معاملات کے باعث استعمال نہیں کیے جا سکے۔

کمیٹی نے حکومت کی جانب سے سی ایس آر فنڈز کو کنسلٹنٹس کی خدمات اور عالمی ثالثی کے مقدمات پر خرچ کرنے کے معاملے پر سوالات اٹھاتے ہوئے ڈائریکٹوریٹ جنرل پیٹرولیم کنسیشنز سے تفصیلات طلب کر لیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp