امریکا، کینیڈا اور یورپ میں قتل، بھتہ خوری اور دیگر جرائم میں ملوث 24 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن پر بھارت میں سرگرم 3 منظم جرائم پیشہ گروہوں، جن میں بشنوئی گینگ بھی شامل ہے، سے تعلق رکھنے کا الزام ہے۔
گرفتار افراد پر بھتہ خوری، منشیات فروشی اور دیگر جرائم کے علاوہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا شبہ ہے۔
ان گروہوں پر 2023 میں منظم منصوبہ بندی کے تحت سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجار کو کینیڈا کے صوبے برٹش کولمبیا کے ایک مندر کے باہر قتل کرنے کا بھی الزام ہے۔
لاس اینجلس کے وفاقی پراسیکیوٹر کے مطابق گرفتار افراد پر منظم جرائم، بھتہ خوری، منشیات کی اسمگلنگ، قتل کی سازش اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شبہات ہیں، حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں بین الاقوامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے باہمی تعاون سے عمل میں لائی گئیں۔
یہ بھی پڑھیے امریکا میں گرفتار خطرناک مجرموں کی فہرست جاری، 89 بھارتی شہری بھی شامل
پہلے معاون وفاقی پراسیکیوٹر بل ایسیلی نے ایک بیان میں کہا کہ جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث 37 ملزمان پر فردِ جرم عائد کر کے اسے منظرِ عام پر لایا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ متعدد ممالک میں پھیلے اس جرائم پیشہ گروہ کے ارکان، جو خوف و ہراس پھیلانے اور منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں، انہیں وفاقی حکومت کی مکمل معاونت سے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ان جرائم میں ملوث افراد کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
45 سالہ سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجار کو آج سے 3 سال قبل 2 افراد نے تعاقب کرنے کے بعد گرونانک گوردوارے کے باہر گولی مار کر قتل کر دیا تھا۔
ہردیپ سنگھ تحریکِ خالصتان کے رہنما تھے، جو سکھ برادری کے لیے ایک آزاد ریاست کے قیام کے حامی تھے۔

وفاقی پراسیکیوٹر کے مطابق 33 سالہ لارنس بشنوئی اور 32 سالہ ستیندرجیت برار، جن کا تعلق بھارتی ریاست پنجاب سے ہے، پر ہردیپ سنگھ کے قتل کا حکم دینے کا بھی الزام ہے۔ بشنوئی 2015 سے جیل میں ہے جبکہ برار تاحال فرار ہے۔
گزشتہ سال کینیڈا میں بشنوئی گینگ کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا، جبکہ وفاقی حکومت کو اس گروپ کی ملکیتی جائیداد ضبط کرنے اور اس کے مالی اثاثے منجمد کرنے کی اجازت بھی دی گئی۔
یہ بھی پڑھیے امریکی ملازمتی ویزوں میں بھارتی فراڈ پکڑا گیا، درخواستیں اور ڈگریاں جعلی نکلیں
2024 میں قتل کے الزام میں4بھارتی شہریوں کو گرفتار کر کے ان پر فردِ جرم عائد کی گئی، جس کے بعد کینیڈا اور بھارت کے درمیان سفارتی تنازع پیدا ہوا۔
بشنوئی گینگ پر متعدد ممتاز مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کو تشدد کا نشانہ بنانے اور بعد ازاں کمیونٹی کے ارکان سے بھتہ وصول کرنے کی کوششوں کے الزامات بھی ہیں۔ بشنوئی اور برار پر کیلیفورنیا میں بھی بھتہ خوری کی کوشش کا الزام ہے۔














