سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں جاری اے آئی فار گڈ گلوبل سمٹ 2026 میں دنیا بھر سے مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی سے وابستہ ماہرین، کمپنیوں اور اداروں نے شرکت کررہے ہیں۔
یہ 4 روزہ عالمی اجلاس 10 جولائی تک جاری رہے گا، جس میں مصنوعی ذہانت کو انسانی فلاح، سماجی ترقی اور پائیدار مستقبل کے لیے بروئے کار لانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

سمٹ کے دوران مختلف ممالک کی کمپنیوں نے جدید روبوٹس اور اے آئی پر مبنی اختراعات کی نمائش کی، جنہوں نے شرکا کی بھرپور توجہ حاصل کی۔
.@AIforGood 2026 is open! This year, Geneva hosts three major AI processes: the Summit, together with the UNGA-mandated AI Dialogues & the multistakeholder governance process (WSIS). Geneva is one of the few places where technology and diplomacy come together to create solutions. pic.twitter.com/RSo0vSMUc3
— SwitzerlandUN (@swiss_un) July 7, 2026
چینی روبوٹکس کمپنی ایجی بوٹ کے تیار کردہ ہیومانوئیڈ روبوٹ نے رقص کا مظاہرہ کیا، جبکہ چائنا موبائل کے ’لنگشی روبوٹ ڈاگ‘ نے حاضرین کو اپنی جدید صلاحیتوں سے متاثر کیا اور متعدد شرکا نے اس کے ساتھ براہِ راست تعامل بھی کیا۔

نمائش میں سوئس کمپنی آر بی لیبس کے روبوٹ نے مارشل آرٹس کی مہارت کا عملی مظاہرہ کیا، جبکہ ایک خودکار واکنگ روبوٹ بھی شرکا کی دلچسپی کا مرکز بنا رہا۔
اس کے علاوہ ایک منفرد انٹرایکٹو آرٹ انسٹالیشن پیش کی گئی، جس میں انسانی دماغی لہروں کو بصری نمونوں میں تبدیل کرکے مصنوعی ذہانت اور انسانی دماغ کے باہمی تعلق کو منفرد انداز میں پیش کیا گیا۔

عالمی سربراہی اجلاس میں دنیا بھر سے آنے والے مندوبین، محققین اور ٹیکنالوجی ماہرین جدید اختراعات کا مشاہدہ کرنے کے ساتھ ساتھ مصنوعی ذہانت کے مثبت اور ذمہ دارانہ استعمال سے متعلق مختلف سیشنز اور مباحثوں میں بھی شریک ہو رہے ہیں۔














