امریکی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کمپنی اوپن اے آئی اپنے اب تک کے سب سے جدید ماڈل GPT-5.6 کو عوامی طور پر متعارف کرانے جا رہی ہے۔ کمپنی نے گزشتہ ماہ امریکی حکومت کی درخواست پر قومی سلامتی کے خدشات کے باعث اس ماڈل کی لانچ مؤخر کر دی تھی۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حکام کو خدشہ تھا کہ انتہائی طاقتور اے آئی ماڈلز کا غلط استعمال چین، روس یا دیگر ممالک کی فوجی اور انٹیلی جنس سرگرمیوں میں کیا جا سکتا ہے، جس کے پیش نظر جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی ریلیز پر نگرانی سخت کر دی گئی ہے۔
GPT-5.6 Sol, along with Terra and Luna, will launch publicly this Thursday.
We’re expanding preview access globally now. pic.twitter.com/Uk5HcfSc2e
— OpenAI (@OpenAI) July 8, 2026
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی محکمہ تجارت نے اضافی سرکاری جانچ کے بعد GPT-5.6 کی وسیع پیمانے پر ریلیز کی منظوری دے دی ہے۔ اس دوران اوپن اے آئی نے ماڈل تک رسائی صرف محدود تعداد میں تصدیق شدہ شراکت داروں کو فراہم کی، جن کی تفصیلات بھی حکام کے ساتھ شیئر کی گئی تھیں۔
اوپن اے آئی نے اعلان کیا ہے کہ GPT-5.6 کے ساتھ Sol، Terra اور Luna نامی نئے ماڈلز بھی متعارف کرائے جائیں گے۔ کمپنی کے مطابق Sol اس کا سب سے جدید اور طاقتور ماڈل ہے، جبکہ Terra درمیانی درجے کا کم لاگت ماڈل اور Luna سب سے زیادہ کم خرچ آپشن ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان آئی ٹی اور اے آئی ایکسپورٹ مزید کتنی بڑھ سکتی ہیں اور کیسے؟
دوسری جانب امریکی حکومت نے حال ہی میں اے آئی کمپنی Anthropic کے جدید Fable اور Mythos ماڈلز پر عائد پابندیاں بھی ختم کر دی ہیں جو قومی سلامتی کے خدشات کے باعث عارضی طور پر معطل کی گئی تھیں۔
واضح رہے کہ امریکی صدر Donald Trump کی جانب سے جاری کردہ ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت جدید اے آئی ماڈلز کی ریلیز سے قبل انہیں حکومتی جانچ کے لیے پیش کرنے کا فریم ورک متعارف کرایا گیا ہے تاکہ ممکنہ سکیورٹی خطرات کا جائزہ لیا جا سکے۔














