پاکستان کی آئی ٹی اور سافٹ ویئر انڈسٹری ملکی معیشت کے ان چند شعبوں میں شامل ہو چکی ہے جو مسلسل ترقی کر رہے ہیں۔ اور اس کا اندازہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے۔ کہ مالی سال 2024-25 میں پاکستان کی آئی ٹی اور آئی ٹی سے متعلق خدمات کی برآمدات 3.8 ارب ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 18 فیصد زیادہ اور ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان آئی ٹی کے شعبے میں اس لیے تیزی سے ابھر رہا ہے کیونکہ ملک میں نوجوان آبادی کا تناسب زیادہ ہے اور ہر سال ہزاروں طلبا کمپیوٹر سائنس، سافٹ ویئر انجینئرنگ اور متعلقہ شعبوں میں تعلیم مکمل کرکے مارکیٹ میں آ رہے ہیں۔ پاکستان فری لانسنگ کے میدان میں بھی دنیا کے نمایاں ممالک میں شمار ہوتا ہے، جہاں ہزاروں نوجوان بیرون ملک کمپنیوں کو سافٹ ویئر، ویب ڈویلپمنٹ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور اب مصنوعی ذہانت سے متعلق خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 4.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، خرم شہزاد
پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ اور صنعتی اداروں کے مطابق ملک میں رجسٹرڈ آئی ٹی کمپنیوں اور اسٹارٹ اپس کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے جبکہ خلیجی ممالک، شمالی امریکا اور یورپ پاکستانی آئی ٹی خدمات کی اہم منڈیاں بن چکی ہیں۔ حالیہ برسوں میں متعدد پاکستانی اسٹارٹ اپس نے مصنوعی ذہانت پر مبنی مصنوعات اور سروسز متعارف کرائی ہیں، جس سے اس شعبے میں سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔
دوسری جانب آئی ٹی ماہرین اور فری لانسنگ سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ حکومت اگر تیز رفتار انٹرنیٹ، ڈیجیٹل ادائیگیوں، ٹیکنالوجی پارکس، آئی ٹی تعلیم اور مصنوعی ذہانت کی مہارتوں میں مزید سرمایہ کاری کرے تو پاکستان کی آئی ٹی برآمدات آئندہ چند برسوں میں 5 سے 10 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ سکتی ہیں۔ ان کے مطابق اے آئی مستقبل میں وہی کردار ادا کر سکتی ہے جو ماضی میں ٹیکسٹائل نے پاکستانی برآمدات کے لیے ادا کیا تھا۔

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے آئی ٹی ایکسپرٹ عمر اسلم کا کہنا ہے کہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں حالیہ برسوں کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ شعبہ ملکی معیشت کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن کر سامنے آیا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ موجودہ کامیابیاں پاکستان کی اصل صلاحیت کا صرف ایک محدود عکس ہیں۔ ملک کے پاس نوجوان، باصلاحیت اور عالمی سطح پر مسابقت کرنے والی افرادی قوت موجود ہے، لیکن اس استعداد کو پائیدار معاشی ترقی اور بڑے پیمانے کی برآمدات میں تبدیل کرنے کے لیے کئی بنیادی چیلنجز سے نمٹنا ضروری ہے۔
آج پاکستانی انجینئرز، سافٹ ویئر ڈویلپرز اور فری لانسرز دنیا بھر میں اپنی مہارت کا لوہا منوا رہے ہیں۔ مصنوعی ذہانت آٹومیشن، ڈیٹا اینالیٹکس اور مشین لرننگ جیسے جدید شعبوں میں پاکستانی ماہرین بین الاقوامی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کی ٹیکنالوجی معیشت کا بڑا حصہ اب بھی سروسز اور آؤٹ سورسنگ تک محدود ہے، جبکہ عالمی منڈی میں حقیقی اور دیرپا کامیابی اُن ممالک کو حاصل ہوتی ہے جو اپنی مصنوعات، پلیٹ فارمز اور ٹیکنالوجی برانڈز تخلیق کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں:پنجاب پرفارمرز ڈیجیٹل شناخت اور مصنوعی ذہانت تحفظ ایکٹ 2026 کیا ہے؟
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر پاکستان آئندہ برسوں میں آئی ٹی برآمدات کو 5 سے 10 ارب ڈالر یا اس سے بھی زیادہ سطح تک لے جانا چاہتا ہے تو صرف فری لانسنگ یا بیرونی منصوبوں پر انحصار کافی نہیں ہوگا۔ بلکہ مقامی کمپنیاں عالمی معیار کی سافٹ ویئر مصنوعات، اے آئی پلیٹ فارمز اور جدید ٹیکنالوجی حل تیار کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جس نے کئیں ممالک کو عالمی ٹیکنالوجی معیشت میں نمایاں مقام دلایا۔
دوسری جانب صنعت کو درپیش عملی رکاوٹیں بھی فوری توجہ کی متقاضی ہیں۔ انٹرنیٹ کے مسائل، ڈیجیٹل ادائیگیوں میں پیچیدگیاں اور سرمایہ کاری کے لیے پیچیدہ ضوابط ایسے عوامل ہیں جو ترقی کی رفتار کو محدود کرتے ہیں۔ البتہ اس کے ساتھ ہی حکومت کی جانب سے رواں مالی سال کے بجٹ میں فری لانسرز کے لیے ٹیکس نہ بڑھانے جیسے اقدامات نہایت خوش آئند ہیں۔
اس کے علاوہ حکومت کی جانب سے پیمنٹ کو اپنے اکاونٹ میں لانے کے لیے بھی جو انتظار کرنا پڑتا تھا۔ اب وہ 24 گھنٹے کے اندر ممکن ہے۔ حکومت کی جانب سے جو اے آئی ویک منایا گیا۔ وہ بھی اچھی کوشش تھی۔ یہ تمام اقدامات حکومت کی جانب سے جو کیے گئے ہیں۔ وہ قابل تعریف ہیں۔ لیکن حکومت کو چاہیے کہ وہ باقی تمام عوام کو پر بھی کام کرے جو پاکستان کی ڈیجیٹل اکانومی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

عمر اسلم کہتے ہیں کہ اسی طرح مصنوعی ذہانت کے دور میں تعلیم، تحقیق، کلاؤڈ انفراسٹرکچر، ڈیٹا سینٹرز اور جدید تکنیکی تربیت پر سرمایہ کاری ناگزیر ہو چکی ہے۔ اگر حکومت اور نجی شعبہ مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت ان شعبوں پر توجہ دیں تو پاکستان آئندہ 5 سے 7 برس میں خطے کی ایک اہم ٹیکنالوجی معیشت بن سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔ اصل چیلنج اس ٹیلنٹ کو عالمی معیار کی کمپنیوں، جدید مصنوعات اور پائیدار برآمدات میں تبدیل کرنا ہے۔ اگر ملک اس مرحلے کو کامیابی سے عبور کر لے تو آئی ٹی اور اے آئی نہ صرف زرمبادلہ کا سب سے بڑا ذریعہ بن سکتے ہیں بلکہ پاکستان کی اقتصادی ترقی کا بنیادی ستون بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں:بجٹ 27-2026: اعلیٰ تعلیم کے لیے 46 ارب اور سائنس و ٹیکنالوجی کے لیے 3.6 ارب روپے مختص
گلوبل فری لانس یونین کے اعزازی صدر طفیل احمد خان کے مطابق پاکستان کے پاس آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں غیر معمولی صلاحیت موجود ہے۔ ملک کی نوجوان آبادی، تیزی سے ابھرتا ہوا فری لانسنگ سیکٹر اور عالمی منڈی میں خدمات فراہم کرنے والی مقامی آئی ٹی کمپنیاں اس شعبے کی مضبوط بنیاد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی فری لانسرز عالمی سطح پر نمایاں مقام رکھتے ہیں اور لاکھوں ڈالر کا زرمبادلہ ملک میں لا رہے ہیں، جبکہ متعدد پاکستانی آئی ٹی کمپنیاں بھی بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنی خدمات برآمد کر رہی ہیں۔
طفیل احمد خان کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ پاکستان کے پاس صلاحیت موجود ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا ملک مصنوعی ذہانت کے عالمی انقلاب کا مؤثر حصہ بننے کے لیے بروقت اور درست اقدامات کرتا ہے یا نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومتی پالیسیوں، نجی شعبے کے تعاون اور عملی نفاذ کے درمیان مؤثر ہم آہنگی پیدا کر لی جائے تو پاکستان خطے کی ایک اہم ٹیکنالوجی معیشت بن سکتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تعلیمی اداروں میں ابتدائی سطح سے ہی جدید ٹیکنالوجی سے متعلق مضامین کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، اے آئی آٹومیشن، مشین لرننگ اور سائبر سیکیورٹی جیسے شعبوں کی تعلیم اسکولوں، کالجوں اور جامعات میں منظم انداز میں متعارف کرائی جائے تاکہ نوجوان نسل مستقبل کی عالمی ضروریات کے مطابق مہارتیں حاصل کر سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ صرف نصاب متعارف کروانا کافی نہیں بلکہ ان شعبوں میں عملی کامیابیاں حاصل کرنے والے ماہرین، صنعت کاروں اور پیشہ ور افراد کو بھی تعلیمی اور پالیسی سازی کے عمل کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ اس سے طلبہ اور نوجوانوں کو مارکیٹ کی حقیقی ضروریات اور عملی تجربات سے آگاہی حاصل ہوگی، جبکہ صنعت اور تعلیم کے درمیان موجود خلا بھی کم ہوگا۔

مزید پڑھیں:یورپی یونین کا میٹا کو حریف اے آئی چیٹ بوٹس کے لیے واٹس ایپ کھولنے کا حکم
طفیل احمد خان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ حکومت اور نجی شعبہ مل کر ایسی طویل المدتی پالیسیاں تشکیل دیں جو بچپن سے لے کر پیشہ ورانہ سطح تک ڈیجیٹل مہارتوں کی تعلیم کو فروغ دیں۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کی تربیت نوجوانوں کو روزگار کے نئے مواقع فراہم کر سکتی ہے، بے روزگاری کی شرح میں کمی لا سکتی ہے اور ملکی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر مضبوط بنا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان اپنی نوجوان افرادی قوت کو جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور عالمی ڈیجیٹل معیشت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو آئی ٹی اور اے آئی مستقبل میں ملک کے سب سے بڑے برآمدی اور معاشی شعبوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔
اس حوالے سے فری لانسر اور ڈیجیٹل سروسز فراہم کرنے والے ماہر زین العابدین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فری لانسنگ نے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے ہیں اور یہی شعبہ مستقبل میں آئی ٹی برآمدات کے مزید اضافے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی فری لانسرز عالمی مارکیٹ میں ویب ڈویلپمنٹ، گرافک ڈیزائننگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، سافٹ ویئر انجینئرنگ اور مصنوعی ذہانت سے متعلق خدمات کامیابی سے فراہم کر رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں عالمی سطح پر پاکستانی فری لانسرز کی ساکھ بہتر ہوئی ہے جس کی بدولت ملک میں قیمتی زرمبادلہ بھی آ رہا ہے۔
ان کے مطابق اگرچہ حکومت نے فری لانسرز کے لیے بعض مثبت اقدامات کیے ہیں، تاہم اب بھی تیز رفتار اور بلا تعطل انٹرنیٹ، بین الاقوامی ادائیگیوں کے آسان نظام اور جدید تکنیکی تربیت جیسے شعبوں میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فری لانسرز کو اکثر ادائیگیوں، بینکنگ سہولیات اور بعض تکنیکی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے حل سے ان کی کارکردگی اور آمدنی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:حکومت کا 10 لاکھ نوجوانوں کو مفت ’اے آئی‘ ٹریننگ دینے کا اعلان
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت نے فری لانسنگ کے شعبے میں بھی نئے مواقع پیدا کیے ہیں اور پاکستانی نوجوان تیزی سے اے آئی سے متعلق مہارتیں حاصل کر رہے ہیں۔ اگر حکومت، تعلیمی ادارے اور نجی شعبہ مل کر نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کی تربیت فراہم کریں تو پاکستان نہ صرف فری لانسنگ بلکہ اے آئی پر مبنی ڈیجیٹل خدمات میں بھی عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔
ان کے بقول، پاکستان کے نوجوانوں میں صلاحیت اور جذبے کی کوئی کمی نہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انہیں عالمی معیار کے مواقع، جدید تربیت اور سازگار کاروباری ماحول فراہم کیا جائے۔ اگر یہ سہولیات میسر آ جائیں تو فری لانسرز ملک کی آئی ٹی برآمدات کو نئی بلندیوں تک لے جا سکتے ہیں۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کے پاس کم لاگت افرادی قوت، انگریزی زبان پر عبور اور عالمی مارکیٹ میں مسابقتی نرخوں کی صورت میں اہم برتری موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کو پاکستان کی مستقبل کی برآمدی معیشت کا اہم ستون قرار دیا جا رہا ہے، جو نہ صرف اربوں ڈالر کا زرمبادلہ لا سکتا ہے بلکہ لاکھوں نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کر سکتا ہے۔










