سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں واقع دارین اور جزیرہ تاروت کے قدیم مکانات اپنی منفرد نقش و نگاری، خوبصورت تزئین اور فنی آرائش کے باعث نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
ان گھروں کی دیواروں، دروازوں اور کھڑکیوں پر بنائے گئے نفیس نقش اس جزیرے کے قدیم ثقافتی ورثے، مقامی ہنرمندی اور وہاں کے باسیوں کے جمالیاتی ذوق کی عکاسی کرتے ہیں، جس کی بنیاد زراعت، موتیوں کے غوطہ خوری کے پیشے اور ماہی گیری سے وابستہ زندگی پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: العلا: سعودی عرب کا ایک تاریخی شہر اور ثقافتی ورثہ
یہ تاریخی مکانات سمندر کی تہہ سے نکالے جانے والے جپسمی پتھروں سے تعمیر کیے گئے ہیں، جبکہ ان پر کندہ کیے گئے مختلف نقش و نگار جزیرے کے باشندوں کی سماجی اور تجارتی زندگی کی جھلک پیش کرتے ہیں۔
ثقافتی ورثے کے ماہر فتحی البنیالی کے مطابق دارین اور جزیرہ تاروت خلیج عرب کے بڑے جزیروں میں شمار ہوتے ہیں اور ان کی تاریخ قدیم ادوار تک پھیلی ہوئی ہے۔
📢نقوش دارين وتاروت.. تراث يحكي تاريخ الجزيرة
📍القطيف – المنطقة الشرقية 🇸🇦
🏝️جزيرتا دارين وتاروت تزخران بزخارف تراثية مميزة
🌊مبانٍ من أحجار البحر بتصاميم عمرانية أصيلة
🎨نقوش توثق حياة البحارة والمزارعين والتجار
✨تطوير يحافظ على التراث ويعزز السياحة الثقافي في المنطقة الشرقية pic.twitter.com/VJUjyZCkEe— نيوزلي (@NewslyKSA) July 6, 2026
انہوں نے کہا کہ ان تاریخی گھروں پر موجود نقوش اور آرائشی ڈیزائن دراصل ایسی تاریخی دستاویزات ہیں جو اس خطے کی صدیوں پر محیط تجارتی اہمیت اور خلیج عرب کی ایک اہم بندرگاہ کے طور پر اس کے کردار کو نمایاں کرتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ قدیم معمار تعمیرات میں سمندر کی تہہ سے حاصل ہونے والے چونے کے پتھر استعمال کرتے تھے، جو مضبوطی اور حرارتی موصلیت کی خصوصیات رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب پہلی مرتبہ یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی کا صدر منتخب
یہی پتھر عمارتوں کی تعمیر، پلستر اور آرائشی کام کے لیے بنیادی مواد کے طور پر استعمال ہوتے تھے۔
دارین اور جزیرہ تاروت سمیت سعودی عرب میں تاریخی قصبوں کی بحالی اور ترقی کے جاری منصوبوں کا مقصد مقامی آبادی کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا، سیاحت کو فروغ دینا، تاریخی اور ثقافتی ورثے کا تحفظ یقینی بنانا، آثارِ قدیمہ کے مقامات کو عالمی سیاحتی و ثقافتی مراکز میں تبدیل کرنا، مقامی آمدنی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنا اور علاقے کے رہائشیوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع فراہم کرنا ہے۔













