آزاد کشمیر: پی ٹی آئی نے انتخابات کا بائیکاٹ کیوں کیا، 27 جولائی کو اس کا فائدہ کس پارٹی کو ہوگا؟

جمعہ 10 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے عام انتخابات کے بائیکاٹ کے فیصلے نے سیاسی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

بظاہر پی ٹی آئی نے مختلف اعتراضات کو بنیاد بنایا، تاہم سیاسی مبصرین اس فیصلے کو ایک سیاسی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی مقابلے کی مضبوط پوزیشن میں نہیں تھی، اسی لیے انتخابی میدان میں اترنے کے بجائے بائیکاٹ کا راستہ اختیار کیا گیا۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: مسلم لیگ ن انتخابی مہم کا آغاز کرکے دیگر سیاسی جماعتوں پر بازی لے گئی

گزشتہ چند برسوں کے دوران آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی کی سیاسی قوت میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ حکومت کے خاتمے، اندرونی اختلافات، اہم رہنماؤں کی علیحدگی، دھڑے بندی اور بعض بااثر شخصیات کی دیگر سیاسی جماعتوں میں شمولیت نے پارٹی کی تنظیمی ساخت کو متاثر کیا۔

کئی ایسے حلقے جہاں ماضی میں پی ٹی آئی مضبوط تصور کی جاتی تھی، اب وہاں پارٹی کو اپنی سابقہ سیاسی طاقت برقرار رکھنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

پی ٹی آئی کے ناقدین کا مؤقف ہے کہ اگر پارٹی واقعی عوامی حمایت رکھتی اور کامیابی کے امکانات روشن ہوتے تو وہ ہر صورت انتخابی میدان میں اترتی۔

ان کے مطابق بائیکاٹ دراصل ممکنہ شکست سے بچنے کی کوشش تھی، کیونکہ کمزور انتخابی نتائج پارٹی کے اس بیانیے کو بھی نقصان پہنچا سکتے تھے کہ وہ اب بھی آزاد کشمیر کی بڑی سیاسی قوت ہے۔

تحریک انصاف نے انتخابی بائیکاٹ کے بعد ان کے کچھ امیدواروں نے دوسری پارٹیوں میں شمولیت اختیار کرلی ہے اور انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر یہ بھی کہہ چکے ہیں وہ بائیکاٹ کا فیصلہ واپس بھی لے سکتے ہیں۔ ’پی ٹی آئی کے امیدواروں نے الیکشن کمیشن سے اپنے کاغذات نامزدگی واپس نہیں لیے۔‘

27 جولائی 2026 کو شیڈول عام انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن نے اپنی تیاریاں مکمل کرلی ہیں، اور امیدواروں کو انتخابی نشانات بھی الاٹ کردیے ہیں۔

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا ایوان 53 ارکان پر مشتمل ہے۔ 33 نشستوں پر آزاد کشمیر میں براہ راست انتخاب ہوتا ہے، 12 نشستوں پر مہاجرین مقیم پاکستان کے نمائندے منتخب ہوتے ہیں۔

اس کے علاوہ خواتین کی 5 مخصوص نشستیں، ایک ٹیکنوکریٹ، ایک علما و مشائخ اور ایک نشست اوورسیز کے لیے مختس ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے 2021 کے الیکشن کے بعد آزاد کشمیر میں حکومت بنائی تھی، جو 2 سال تک بھی نہ چل سکی۔ ’2 برس میں پی ٹی آئی کے 2 وزیراعظم آئے، اور پھر فارورڈ بلاک سے تعلق رکھنے والے چوہدری انوارالحق وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوگئے۔‘

پی ٹی آئی بحیثیت جماعت کہیں پر نظر نہیں آرہی، جاوید ہاشمی

آزاد کشمیر کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر صحافی جاوید اقبال ہاشمی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پی ٹی آئی آزاد کشمیر الیکشن میں بحیثیت جماعت رجسٹرڈ ہی نہیں۔

انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن کے بائیکاٹ کا فیصلہ راہ فرار کے مترادف ہے، کیوں کہ ان کی جماعت ریاست بھر میں مقابلے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔

جاوید ہاشمی نے کہاکہ پی ٹی آئی بحیثیت جماعت تو کہیں پر نظر نہیں آ رہی تاہم انہوں نے خود کو ایکشن کمیٹی کے ساتھ ضرور ملا لیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اب تک کی صورت حال کے مطابق آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن آئندہ حکومت بناتی ہوئی نظر آرہی، اور ان کی پوزیشن مضبوط ہے۔

پی ٹی آئی کے ووٹ بینک کا فائدہ یا نقصان کسی ایک جماعت کو نہیں ہوگا، راجا کفیل احمد

سینیئر تجزیہ کار راجا کفیل احمد بھی جاوید ہاشمی سے اتفاق کرتے ہیں۔ وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے انتخابات میں مقابلے کی پوزیشن میں نہیں تھی، اور اسی لیے انہوں نے الیکشن کا بائیکاٹ کیا۔

انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان مقابلہ ہے، جبکہ پی ٹی آئی کے ووٹ بینک کا فائدہ یا نقصان کسی ایک جماعت کو نہیں ہوگا۔

راجا کفیل احمد نے کہاکہ آزاد کشمیر میں قبائل کی سیاست ہے، اور ہر حلقے کی صورت حال مختلف ہے، اس لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پی ٹی آئی کا ووٹر کسی ایک جماعت کو فائدہ یا نقصان پہنچا سکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ ن آئندہ عام انتخابات کے بعد حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے۔

راجا کفیل احمد نے کہاکہ آزاد کشمیر سے 16 سے 17 جبکہ مہاجرین مقیم پاکستان سے 5 سے 6 نشستوں پر مسلم لیگ ن کے امیدوار جیتنے کی پوزیشن میں ہیں، اور یہی حکومت بنانے کے لیے لکی نمبر ہے۔

پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ شکست کی صورت میں بیانیے کو دھچکا لگے گا، خواجہ متین

سینیئر صحافی خواجہ اے متین نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ پی ٹی آئی آزاد کشمیر کے صدر عبدالقیوم نیازی اور سابق اپوزیشن لیڈر خواجہ فاروق کے علاوہ کوئی بڑا سیاستدان پی ٹی آئی کا حصہ نہیں رہا۔

انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن کے بائیکاٹ کا فیصلہ راہ فرار ہے۔ ’پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ الیکشن میں بدترین شکست کے بعد پارٹی کے اس بیانیے کو دھچکا لگے گا کہ ہم اس وقت بھی عوام میں مقبول ہیں۔‘

خواجہ متین نے کہاکہ آزاد کشمیر کی سیاست کو سمجھنے والے بخوبی جانتے ہیں کہ وہاں ہر حلقے کی پوزیشن مختلف ہوتی ہے۔ وہ بھی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کا ووٹ بینک کسی ایک جماعت کے حق یا مخالفت میں نہیں پڑےگا۔

انہوں نے کہاکہ اب تک کی صورت حال کے مطابق مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہے، انتخابات میں مقابلہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان ہوگا۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر انتخابات: کون سے سابق وزرائے اعظم اس معرکے کا حصہ ہیں؟

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی پی ٹی آئی سے الیکشن میں حصہ لینے کا مطالبہ اس لیے کررہی ہے کہ جمہوری عمل سے کسی بھی صورت باہر نہیں ہونا چاہیے، پیپلز پارٹی کو اس کا کوئی سیاسی فائدہ یا نقصان نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کی آئی ٹی برآمدات نے نئی تاریخ رقم کر دی، پہلی بار 4.5 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

’تحفظ کی قیمت وصول کریں گے‘ ٹرمپ کا سعودی عرب، یو اے ای، قطر اور بحرین سے ایران جنگ کے اخراجات کا مطالبہ

وفاق میں تاحیات بلیو پاسپورٹ پر ہم نے تنقید کی، اب خیبرپختونخوا میں ایسا ہونا قابل قبول نہیں، مشتاق غنی

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم

برداشت کی بھی حد ہوتی ہے

میسی کے گول سے 45 برس بعد کھلنے والا سفارتخانہ