چینی صدر شی جن پنگ نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کو ملک کی جدید ترقی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کو 2035 تک دنیا کی صفِ اول کی سائنسی و تکنیکی طاقت بنانے کے لیے جدت، تحقیق، مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی اور جدید صنعتوں میں تیز رفتار پیشرفت کرنا ہوگی۔ انہوں نے زور دیا کہ سائنسی کامیابیوں کو براہِ راست معیشت، صنعت اور عوامی فلاح سے جوڑا جائے تاکہ چینی جدیدیت کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
چینی صدر شی جن پنگ نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اعلیٰ سطح کی خود کفالت کو چین کی مستقبل کی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جدید سائنسی اختراعات ہی چینی جدیدیت اور قومی ترقی کی اصل محرک ہوں گی۔
Xi Jinping bëri thirrje për forcimin e kapaciteteve të sistemit kombëtar të inovacionit, zbatimin e strategjisë së "katër orientimeve", koordinimin e planifikimit strategjik, detyrave madhore, burimeve kërkimore e kapaciteteve inovative, si edhe optimizimin e strukturës së… pic.twitter.com/UQUtjwv6A4
— Radio Ejani (@RadioEjani) July 8, 2026
بیجنگ میں قومی سائنس و ٹیکنالوجی ایوارڈ کانفرنس، چینی اکیڈمی آف سائنسز، چینی اکیڈمی آف انجینئرنگ اور چائنا ایسوسی ایشن فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شی جن پنگ نے کہا کہ 2026 سے 2030 پر مشتمل پندرہواں 5 سالہ منصوبہ چین کو سائنس اور ٹیکنالوجی کی عالمی قیادت کی جانب لے جانے کا فیصلہ کن مرحلہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 2035 تک دنیا کی ممتاز سائنسی طاقت بننے کے ہدف کی جانب بھرپور پیشرفت کرنا ہوگی۔
اجلاس کے دوران صدر شی جن پنگ نے 2025 کے اعلیٰ ترین قومی سائنس و ٹیکنالوجی ایوارڈز ممتاز سائنس دانوں چن لی چوان اور بین دے کو عطا کیے، جبکہ دیگر قومی اور بین الاقوامی سائنسی اعزازات کے فاتحین میں بھی اسناد تقسیم کی گئیں۔ اس سال مجموعی طور پر 258 منصوبوں اور 11 سائنس دانوں کو مختلف قومی اعزازات سے نوازا گیا، جبکہ 9 غیر ملکی ماہرین کو چین کے بین الاقوامی سائنسی تعاون ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:چینی اے آئی ایپ سیڈانس نے ہالی ووڈ میں ہلچل مچا دی
شی جن پنگ نے کہا کہ چین گزشتہ برسوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر چکا ہے۔ انہوں نے چاند کے دور دراز حصے سے پہلی مرتبہ نمونے واپس لانے والے ’چانگ ای-6‘ مشن، ذہین روبوٹس اور ڈرونز، جدید ادویات کی تیاری اور ایسی زرعی اقسام کی تیاری کا حوالہ دیا جنہوں نے ملک کے 95 فیصد سے زائد زرعی رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین اب صرف عالمی سائنسی سرگرمیوں میں شریک ملک نہیں بلکہ ایک رہنما قوت کے طور پر ابھر رہا ہے۔
انہوں نے اس کے ساتھ یہ اعتراف بھی کیا کہ چین کو اب بھی بنیادی تحقیق، اختراعی صلاحیت، اعلیٰ معیار کے انسانی وسائل اور تحقیق پر ہونے والی سرمایہ کاری کے مؤثر استعمال جیسے شعبوں میں چیلنجز درپیش ہیں۔ ان مسائل پر قابو پانے کے لیے مربوط قومی حکمت عملی، بہتر منصوبہ بندی اور وسائل کے مؤثر استعمال کی ضرورت ہے۔
Xi calls for advancing Chinese modernization through sci-tech innovation
Chinese President Xi Jinping on Wednesday called for accelerated efforts to achieve high-level self-reliance and strength in science and technology, and leverage sci-tech innovation to underpin and drive… pic.twitter.com/oe2p6o75QO
— Voice of the People (@VoiceofPD) July 9, 2026
چینی صدر نے مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، لائف سائنسز، جدید مینوفیکچرنگ، سیمی کنڈکٹرز، گہرے سمندر، خلا اور زیرِ زمین وسائل جیسے شعبوں کو مستقبل کی ترجیحات قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہی میدانوں میں سرمایہ کاری اور تحقیق چین کی عالمی مسابقت کو مضبوط بنائے گی۔
انہوں نے زور دیا کہ سائنسی تحقیق کو صنعت سے جوڑا جائے، نئی ٹیکنالوجیز کو تجارتی بنیادوں پر فروغ دیا جائے، دانشورانہ املاک کے تحفظ کو مزید مضبوط بنایا جائے اور نوجوان سائنس دانوں کی تربیت کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ساتھ ہی انہوں نے سائنسی اخلاقیات، ٹیکنالوجی کی سلامتی اور تحقیق کے ذمہ دارانہ استعمال کو بھی آئندہ ترقی کا لازمی حصہ قرار دیا۔













