چین کو 2035 تک سائنس و ٹیکنالوجی کی عالمی طاقت بنانا ہوگا، شی جن پنگ

جمعرات 9 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

چینی صدر شی جن پنگ نے سائنس اور ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کو ملک کی جدید ترقی کی بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین کو 2035 تک دنیا کی صفِ اول کی سائنسی و تکنیکی طاقت بنانے کے لیے جدت، تحقیق، مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی اور جدید صنعتوں میں تیز رفتار پیشرفت کرنا ہوگی۔ انہوں نے زور دیا کہ سائنسی کامیابیوں کو براہِ راست معیشت، صنعت اور عوامی فلاح سے جوڑا جائے تاکہ چینی جدیدیت کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

چینی صدر شی جن پنگ نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں اعلیٰ سطح کی خود کفالت کو چین کی مستقبل کی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جدید سائنسی اختراعات ہی چینی جدیدیت اور قومی ترقی کی اصل محرک ہوں گی۔

بیجنگ میں قومی سائنس و ٹیکنالوجی ایوارڈ کانفرنس، چینی اکیڈمی آف سائنسز، چینی اکیڈمی آف انجینئرنگ اور چائنا ایسوسی ایشن فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شی جن پنگ نے کہا کہ 2026 سے 2030 پر مشتمل پندرہواں 5 سالہ منصوبہ چین کو سائنس اور ٹیکنالوجی کی عالمی قیادت کی جانب لے جانے کا فیصلہ کن مرحلہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 2035 تک دنیا کی ممتاز سائنسی طاقت بننے کے ہدف کی جانب بھرپور پیشرفت کرنا ہوگی۔

اجلاس کے دوران صدر شی جن پنگ نے 2025 کے اعلیٰ ترین قومی سائنس و ٹیکنالوجی ایوارڈز ممتاز سائنس دانوں چن لی چوان اور بین دے کو عطا کیے، جبکہ دیگر قومی اور بین الاقوامی سائنسی اعزازات کے فاتحین میں بھی اسناد تقسیم کی گئیں۔ اس سال مجموعی طور پر 258 منصوبوں اور 11 سائنس دانوں کو مختلف قومی اعزازات سے نوازا گیا، جبکہ 9 غیر ملکی ماہرین کو چین کے بین الاقوامی سائنسی تعاون ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:چینی اے آئی ایپ سیڈانس نے ہالی ووڈ میں ہلچل مچا دی

شی جن پنگ نے کہا کہ چین گزشتہ برسوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر چکا ہے۔ انہوں نے چاند کے دور دراز حصے سے پہلی مرتبہ نمونے واپس لانے والے ’چانگ ای-6‘ مشن، ذہین روبوٹس اور ڈرونز، جدید ادویات کی تیاری اور ایسی زرعی اقسام کی تیاری کا حوالہ دیا جنہوں نے ملک کے 95 فیصد سے زائد زرعی رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چین اب صرف عالمی سائنسی سرگرمیوں میں شریک ملک نہیں بلکہ ایک رہنما قوت کے طور پر ابھر رہا ہے۔

انہوں نے اس کے ساتھ یہ اعتراف بھی کیا کہ چین کو اب بھی بنیادی تحقیق، اختراعی صلاحیت، اعلیٰ معیار کے انسانی وسائل اور تحقیق پر ہونے والی سرمایہ کاری کے مؤثر استعمال جیسے شعبوں میں چیلنجز درپیش ہیں۔ ان مسائل پر قابو پانے کے لیے مربوط قومی حکمت عملی، بہتر منصوبہ بندی اور وسائل کے مؤثر استعمال کی ضرورت ہے۔

چینی صدر نے مصنوعی ذہانت، کوانٹم ٹیکنالوجی، لائف سائنسز، جدید مینوفیکچرنگ، سیمی کنڈکٹرز، گہرے سمندر، خلا اور زیرِ زمین وسائل جیسے شعبوں کو مستقبل کی ترجیحات قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہی میدانوں میں سرمایہ کاری اور تحقیق چین کی عالمی مسابقت کو مضبوط بنائے گی۔

انہوں نے زور دیا کہ سائنسی تحقیق کو صنعت سے جوڑا جائے، نئی ٹیکنالوجیز کو تجارتی بنیادوں پر فروغ دیا جائے، دانشورانہ املاک کے تحفظ کو مزید مضبوط بنایا جائے اور نوجوان سائنس دانوں کی تربیت کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ساتھ ہی انہوں نے سائنسی اخلاقیات، ٹیکنالوجی کی سلامتی اور تحقیق کے ذمہ دارانہ استعمال کو بھی آئندہ ترقی کا لازمی حصہ قرار دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نئے صوبوں کے قیام سے متعلق فضل الرحمان کے مؤقف پر ناقدین کی سخت تنقید، ماضی یاد دلا دیا

بنوں میں قاری راشد کے قتل کا الزام پولیس امن کمیٹی پر، لواحقین کا تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ

ہارٹ ٹرانسپلانٹ کا متبادل تیار، چینی سائنسدانوں کا کرشماتی علاج، 90 فیصد ہارٹ فیلیئر مریض صحتیاب

عاطف اسلم کا 18 سال بعد نیا البم ’صبح آئے نہ‘ ریلیز، کراچی میں اسپاٹیفائی کے زیراہتمام جشن

جماعت اسلامی گرینڈ اپوزیشن اتحاد کا حصہ نہیں بنے گی، حافظ نعیم الرحمان کا صاف انکار

ویڈیو

ہارٹ ٹرانسپلانٹ کا متبادل تیار، چینی سائنسدانوں کا کرشماتی علاج، 90 فیصد ہارٹ فیلیئر مریض صحتیاب

ٹیک ٹائکون زکربرگ نے تاریخی آئرش قلعہ خرید لیا، حقیقت اور قیمت جان کر آپ بھی حیران رہ جائیں گے

چینی روبوٹس نے دوڑ کاعالمی ریکارڈ تو توڑ دیا، لیکن اصل امتحان اب شروع ہوگا!

کالم / تجزیہ

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟