افغانستان میں طالبان حکومت کو مسلح مزاحمت کے بڑھتے ہوئے چیلنج کا سامنا ہے۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) نے مختلف صوبوں میں طالبان کے خلاف کارروائیوں کی نئی ویڈیوز جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اپنی سرگرمیوں کا دائرہ پنج شیر سے باہر ملک کے کئی حصوں تک وسیع کر دیا ہے، جبکہ طالبان اب بھی کسی منظم مزاحمتی تحریک کی موجودگی سے انکار کر رہے ہیں۔
افغانستان کے نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (این آر ایف) نے بدھ کے روز سوشل میڈیا پر نئی ویڈیوز جاری کی ہیں جن میں طالبان اہلکاروں پر حملوں کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت اب صرف پنج شیر تک محدود نہیں رہی بلکہ افغانستان کے مختلف صوبوں تک پھیل چکی ہے۔
Jum'a Khan, the pride of Badakhshan continue to resist Taliban regime and standing tall to protect the people and minerals of Badakhshan. pic.twitter.com/t4bNBuvBDp
— National Resistance Front (NRF) 🇦🇫 (@NRFMediaCell) July 8, 2026
این آر ایف کے مطابق یہ ویڈیوز اس کی جاری مہم کا حصہ ہیں، جس کے ذریعے وہ طالبان کے اس مؤقف کو چیلنج کرنا چاہتی ہے کہ ملک میں کوئی منظم مسلح مزاحمت موجود نہیں۔ طالبان حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد آزاد میڈیا پر سخت پابندیاں عائد کی ہیں اور مزاحمتی گروپوں کی سرگرمیوں کو مسلسل مسترد کیا ہے۔
این آر ایف کی بنیاد اگست 2021 میں کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد احمد مسعود نے رکھی تھی۔ ابتدائی طور پر طالبان اسے پنج شیر کی وادیوں تک محدود ایک کمزور گروہ قرار دیتے رہے، تاہم تقریباً 4 برس بعد این آر ایف اور افغانستان فریڈم فرنٹ (اے ایف ایف) کا دعویٰ ہے کہ وہ ایک درجن سے زائد صوبوں میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان کو شدید مزاحمت کا سامنا، نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نے حملوں کی ویڈیو جاری کردی
تنظیم کے مطابق اس کے جنگجو طالبان کی گشت کرنے والی ٹیموں پر گھات لگا کر حملے، کمانڈروں اور انٹیلی جنس اہلکاروں کو نشانہ بنانے جیسی کارروائیاں کر رہے ہیں۔
این آر ایف نے دعویٰ کیا کہ جون کے دوران کابل، ہرات، بدخشان اور بغلان میں چھ حملے کیے گئے، جن میں 18 طالبان اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں این آر ایف نے کہا کہ اس کی فورسز طالبان کی غیر قانونی حکومت سے عوام اور ملک کی آزادی کے لیے مختلف علاقوں میں ہدفی کارروائیاں کر رہی ہیں۔

دوسری جانب افغانستان میں طالبان کی انسانی حقوق سے متعلق پالیسیوں پر بھی بین الاقوامی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ ماہ ہرات میں خواتین پر عائد سخت پابندیوں کے خلاف مجوزہ احتجاج روکنے کے لیے طالبان نے بھاری نفری تعینات کی تھی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس سے قبل ہونے والے ایک مظاہرے کو منتشر کرنے کے دوران متعدد خواتین کو گرفتار کیا گیا، جبکہ اقوام متحدہ کے ماہرین نے دعویٰ کیا کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائی میں کم از کم 2 افراد ہلاک اور بیس سے زائد زخمی ہوئے۔ طالبان نے مظاہرین پر اسلحہ استعمال کرنے کی تردید کی تھی۔
طالبان حکام مسلسل یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں کہ افغانستان میں کوئی منظم مسلح مزاحمتی گروہ موجود نہیں، تاہم این آر ایف کی جانب سے جاری تازہ ویڈیوز اور دعوے اس بیانیے کو چیلنج کرنے کی ایک نئی کوشش قرار دیے جا رہے ہیں۔













