امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک بار پھر مشکل دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ امریکی میڈیا کے تجزیے کے مطابق ایران پر تازہ فضائی حملوں کے باوجود ٹرمپ کے پاس ایسے مؤثر اور کم خطرناک آپشنز موجود نہیں جو بحران کا مستقل حل فراہم کر سکیں، جبکہ ہر ممکن راستہ سیاسی، عسکری اور معاشی طور پر بھاری قیمت کا حامل ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران پر نئی امریکی فضائی کارروائیوں کے بعد بھی ٹرمپ کی حکمت عملی واضح نتائج دینے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی موجودہ صورتحال ایک ایسے چکر کی مانند ہے جہاں تمام راستے گھوم پھر کر اسی مقام پر پہنچ جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے امریکا نے ایران پر دوبارہ حملہ کر دیا، تہران کا کویت اور بحرین میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ یہ صورتحال بڑی حد تک خود ٹرمپ کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ جون میں ایران کے ساتھ ہونے والی مفاہمتی یادداشت (MoU) بنیادی تنازعات، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے انتظام جیسے اہم معاملات کا مستقل حل فراہم نہ کر سکی، جس کے باعث معاہدہ جلد ہی تنازعات کی نذر ہوتا دکھائی دیا۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے اور بعد ازاں امریکی جوابی حملوں نے ایک بار پھر خطے کو کشیدگی کی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ایران آبنائے ہرمز پر اپنا اثرورسوخ برقرار رکھ کر عالمی توانائی کی تجارت پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے، جبکہ امریکا اسے بین الاقوامی آبی گزرگاہ قرار دیتے ہوئے آزاد جہاز رانی پر اصرار کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر ٹرمپ جنگ کو مزید وسعت دیتے ہیں تو وہ ایران کے توانائی مراکز، بجلی گھروں یا ساحلی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتے ہیں، حتیٰ کہ جزیرہ خارگ پر قبضے جیسے آپشن بھی زیر غور آ سکتے ہیں۔ تاہم ایسی کسی بھی کارروائی کے نتیجے میں امریکی افواج کو بھاری جانی نقصان، خلیجی اتحادی ممالک پر ایرانی جوابی حملے، تیل و گیس کی تنصیبات کو خطرات اور عالمی توانائی بحران جیسے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ مکمل جنگ کے باوجود بھی اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ ایران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ بننے کی صلاحیت سے محروم ہو جائے گا، کیونکہ محدود وسائل کے ذریعے بھی وہ جہاز رانی کو متاثر کر سکتا ہے۔
امریکی کانگریس کی ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے سینیئر ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے کہا کہ ایران کے خلاف ’کام مکمل کرنے‘ کی بات کرنے والے سخت گیر حلقے حقیقت پسندانہ مؤقف اختیار نہیں کر رہے۔ ان کے مطابق مکمل جنگ بھی ایران کو فیصلہ کن طور پر شکست نہیں دے سکے گی۔
دوسری جانب سابق نیٹو کمانڈر ایڈمرل جیمز اسٹیورڈس نے تجویز دی کہ براہِ راست عسکری کارروائی کے بجائے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانا زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق جزیرہ خارگ پر قبضے کے بجائے اس کا بحری محاصرہ ایران کی معیشت کے لیے زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے، اگرچہ اس کے جواب میں ایران کی شدید کارروائیوں کا خدشہ بھی موجود رہے گا۔
یہ بھی پڑھیے آبنائے ہرمز دوبارہ بند ہوئی تو امریکی معیشت کو بڑا دھچکا لگ سکتا ہے، ماہرین کا انتباہ
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا موجودہ صورتحال کو قبول کر لیتا ہے اور آبنائے ہرمز میں ایران کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو چیلنج نہیں کرتا تو عالمی منڈی میں توانائی مہنگی ہو سکتی ہے، تیل کی رسد متاثر ہو سکتی ہے اور امریکا کی عالمی ساکھ کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ادھر صدر ٹرمپ نے تازہ امریکی حملوں کے بعد ایران کو دوبارہ سخت نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایسے واقعات دوبارہ ہوئے تو امریکی ردعمل پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہوگا۔ تاہم انہوں نے ایک بار پھر یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران مذاکرات کا خواہاں ہے، حالانکہ تجزیہ کاروں کے مطابق اس دعوے کی تاحال کوئی عملی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ٹرمپ کے پاس ایسا کوئی آسان یا کم قیمت حل موجود نہیں، اور ایران سے متعلق ہر فیصلہ امریکا کے لیے نئے سیاسی، معاشی اور عسکری چیلنجز کو جنم دے سکتا ہے۔














