خیبر پختونخوا اسمبلی کے اراکین کی مراعات میں اضافے کے خلاف عوامی تنقید کے باوجود اپوزیشن جماعتیں مراعات کے حق میں حکومت کے ساتھ کھڑی ہو گئیں، جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بعض اراکین مخالفت میں سامنے آ گئے ہیں۔
خیبر پختونخوا اسمبلی سے پارلیمنٹیرینز پرولیجز ترامیم کی منظوری کے بعد عوامی سطح پر پی ٹی آئی کی حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
شدید تنقید کے بعد وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان، پارٹی رہنماؤں اور اپوزیشن اراکین کے ساتھ مل کر اراکین کی مراعات سے متعلق ترامیم کے حق میں میدان میں آ گئے۔ اپوزیشن اراکین بھی اس کے حق میں بولے۔
یہ بھی پڑھیں:خیبر پختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت اپوزیشن ارکان کو ترقیاتی فنڈز کیوں نہیں دے رہی؟
شفیع جان نے کہا کہ ممبران اسمبلی کی مراعات سے متعلق جو قانون پاس ہوا ہے، اس حوالے سے کنفیوژن پیدا کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا اور میڈیا میں ایسی باتیں سامنے آ رہی ہیں جن کا اس ایکٹ میں نام و نشان بھی نہیں۔
انہوں نے بلیو پاسپورٹ، ٹول ٹیکس سے استثنیٰ، مفت رہائش اور اسلحہ لائسنس دینے کے لیے کی گئی قانون سازی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ممبران صوبائی اسمبلی کے لیے بلیو پاسپورٹ 1988 کے قانون میں پہلے سے موجود تھا۔
ان کامؤقف تھا کہ صوبائی کابینہ نے کسی ایسی مراعت کی منظوری نہیں دی جو 1988 کے ایکٹ میں شامل نہ ہو۔ان کے مطابق ٹول ٹیکس گزشتہ 20 سال سے پارلیمنٹیرینز اور ججز کے لیے فری ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ممبران سمیت ملک میں کل 57 ہزار بلیو پاسپورٹ جاری ہو چکے ہیں، ان پر بات ہونی چاہیے۔
صوبائی اسمبلی کے ممبران کو پہلے سے چار اسلحہ لائسنس کی اجازت تھی، جبکہ صوبے کی مخصوص سیکیورٹی صورتحال اور ممبران کو درپیش سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر ادائیگی پر ممبران کو مزید 4 لائسنسوں کی منظوری دی گئی ہے۔
پی ٹی آئی اراکین کی اپنی حکومت پر تنقید
اراکین اسمبلی کی مراعات پر اپوزیشن اراکین حکومت کی حمایت میں سامنے آئے تو دوسری جانب پی ٹی آئی کے اپنے اراکین اس قانون سازی پر تنقید کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں:خیبرپختونخوا میں سینیٹ کی 11 نشستوں پر انتخاب، حکومت 6 اور اپوزیشن 5 پرکامیاب
سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی ایک مبینہ آڈیو بھی سامنے آئی ہے جو انہوں نے پارٹی گروپ میں شیئر کی تھی۔ اس میں وہ مراعات کے لیے کی گئی قانون سازی سے خود کو الگ کر رہے ہیں۔
آڈیو میں وہ کہتے ہیں کہ یہ قانون سازی عمران خان کے وژن کی خلاف ورزی ہے اور وہ اس کے خلاف ہیں۔ انہوں نے اس پر نظرثانی کا بھی مطالبہ کیا۔ پی ٹی آئی کے ناراض اراکین بھی اس کے خلاف ہو گئے ہیں۔
ایک ناراض رکن نے بتایا کہ سہیل آفریدی کی حکومت بجٹ عمران خان سے مشاورت کے بغیر پاس کرنے کے لیے تیار نہیں تھی، لیکن مراعات کے بل پر کسی سے بھی مشاورت نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پہلے ترامیمی بل کو خفیہ رکھا گیا، جبکہ پاس ہونے کے بعد بھی اسے خفیہ رکھا گیا اور کئی ماہ بعد اس کی خبر سامنے آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اپنے مفادات کی بات آتی ہے تو عمران خان کا وژن پس پشت چلا جاتا ہے۔
سہیل آفریدی کی نظرثانی کی ہدایت
عوامی تنقید کے بعد وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے پارلیمنٹیرینز پرولیجز بل میں کی گئی ترامیم پر نظرثانی کی ہدایت کر دی۔
وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری بیان کے مطابق وزیراعلیٰ نے اسپیکر کو تمام پارلیمانی لیڈرز کا اجلاس بلانے کی ہدایت کی، جس میں ان نکات کا جائزہ لیا جائے جن پر خیبر پختونخوا کے عوام کو اعتراض ہے۔ جبکہ جن نکات پر صحافی برادری کو اعتراض ہے، ان پر بھی نظرثانی کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات: اپوزیشن جماعتوں کا اپنے امیدوار دستبردار نہ کرنے کا فیصلہ
انہوں نے کہا کہ عمران خان نے ہمیشہ آزادیٔ اظہارِ رائے کو فروغ دیا ہے اور عمران خان چاہتے تھے کہ صحافی جہاں ضروری سمجھیں، کھل کر تنقید کریں۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا عوامی مینڈیٹ سے قائم واحد اسمبلی ہے، اس لیے عوامی رائے اور مفاد کو ہر فیصلے میں مقدم رکھا جائے گا۔ ’امید ہے کہ پارلیمنٹیرینز پرولیجز بل میں کی گئی ترامیم پر نظرثانی ہوگی۔‘
سہیل آفریدی نے یقین دہانی کرائی کہ آئندہ تمام اقدامات عوامی مفاد اور عوامی رائے کے مطابق کیے جائیں گے۔













