کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ دہشتگرد عناصر نے دوشالی کے مقام پر گھات لگا کر کیے گئے حملے کے بعد پاکستانی فوج کے بہادر اہلکار وقاص بنگش کی لاش کی بے حرمتی اور سر قلم کرنے کی ایک ہولناک تصویر جاری کی ہے۔
دہشتگردوں کی جانب سے جاری کردہ اس تصویر میں جائے وقوعہ سے قبضے میں لیا گیا فوجی سامان بھی دکھایا گیا ہے۔ یہ اندوہناک واقعہ ان وحشیانہ اور غیر انسانی ہتھکنڈوں کی یاد دہانی ہے جو ٹی ٹی پی اور اس سے وابستہ مسلح گروہ پاکستان کے خلاف مسلسل استعمال کر رہے ہیں۔
اسلامی قوانین اور دیوبند فقہ کی صریحاً خلاف ورزی
دہشتگرد تنظیم کی جانب سے لاشوں کی بے حرمتی اور سر قلم کرنے کا یہ اقدام اسلامی قوانین اور روایتی دیوبند فقہ کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:حقائق اور بیانیے میں واضح فرق، لانگو کیس میں عدالتی ریکارڈ اصل میں کیا ظاہر کرتا ہے؟
دینِ اسلام اور فقہِ دیوبند میں جنگ کے دوران بھی لاشوں کا مسخ کرنے یا ان کی بے حرمتی کرنے کی سخت ممانعت ہے۔
عوامی اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کا یہ بیانیہ سراسر جھوٹ پر مبنی ہے اور ان کے اس ’وحشی اقدام‘ کا حقیقی اسلامی تعلیمات سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔
یہ عناصر درحقیقت جانوروں سے بھی بدتر ہیں، بلکہ انہیں جانور کہنا بھی جانوروں کی توہین کے مترادف ہے۔ ٹی ٹی پی کے اس فعل سے ایک بار پھر ثابت ہو گیا ہے کہ خود کو اسلام سے جوڑنے والوں کو اسلام سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں اور حقیقی معنوں میں یہ فتنہ الخوارج ہی ہیں۔
علمائے کرام اور نیشنل پیس ایڈوائزری کونسل کا ردعمل
اس ہولناک واقعے کے بعد علمائے کرام اور نیشنل پیس ایڈوائزری کونسل کے نمائندوں کی جانب سے سوشل میڈیا پیغامات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔
مزید پڑھیں:بنوں میں بچی پر تشدد کی ویڈیو، فواد چوہدری کا ردعمل، ٹی ٹی پی کی تنگ نظری پر تنقید
ان بیانات میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یہ انتہا پسند گروہ اسلام کے دائرے سے بالکل باہر کام کر رہے ہیں اور ان کے اقدامات انسانیت کے لبادے میں بدترین حیوانیت ہیں۔ علمائے کرام نے واضح کیا ہے کہ اسلام ایسے وحشیانہ ہتھکنڈوں کی قطعی اجازت نہیں دیتا۔














