چین کے جنوب مشرقی صوبے فوجیان کے شہر جن جیانگ میں جوتے بنانے والی ایک فیکٹری میں خوفناک آگ لگنے سے کم از کم 28 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ سینکڑوں کارکنوں کو بحفاظت نکال لیا گیا۔ صدر شی جن پنگ نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی اور صنعتی تحفظ کے مؤثر اقدامات کی ہدایت کی ہے۔
چین کے جنوب مشرقی صوبے فوجیان کے شہر جن جیانگ میں جوتے تیار کرنے والی ’ہوئی ٹینگ فٹ ویئر‘ فیکٹری میں لگنے والی خوفناک آگ کے نتیجے میں کم از کم 28 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق آگ جمعرات کو دوپہر کے وقت فیکٹری میں بھڑکی، جس کے بعد عمارت سے سیاہ دھوئیں کے بادل اٹھنے لگے، جبکہ بعض افراد جان بچانے کے لیے عمارت کی چھت پر پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں:چین سورج کی سمت سے آنے والے خطرناک خلائی پتھروں کا سراغ لگائے گا
ریسکیو کارروائیوں میں 500 سے زائد اہلکاروں نے حصہ لیا، جبکہ 200 سے زائد افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ حکام کے مطابق فیکٹری میں آگ لگنے کے وقت تقریباً 240 افراد موجود تھے۔ 213 کارکنوں کو بحفاظت نکال لیا گیا، تاہم ان میں سے دو افراد بعد ازاں اسپتال میں دم توڑ گئے، جبکہ لاپتا ہونے والے 26 افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد ہوئیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق آگ ممکنہ طور پر فیکٹری کی نچلی منزل پر بھڑکی، جہاں آتش گیر مواد ذخیرہ کیا گیا تھا۔
چینی حکام نے فیکٹری کی ملکیت سے وابستہ متعدد افراد کو حراست میں لے لیا ہے، جبکہ کمپنی کے بینک اکاؤنٹس بھی منجمد کر دیے گئے ہیں۔ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔

صدر شی جن پنگ نے کہا کہ اس سانحے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے اور ذمہ داروں کو سختی سے جواب دہ ٹھہرایا جائے۔ انہوں نے رواں سال صنعتی شعبے میں پیش آنے والے بڑے حادثات سے ’گہرے اسباق‘ حاصل کرنے پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ملک بھر میں صنعتی اداروں میں سخت اور مؤثر حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔
واضح رہے کہ جن جیانگ کو چین کا ’جوتوں کا دارالحکومت‘ کہا جاتا ہے، جہاں دنیا کے تقریباً 20 فیصد اسپورٹس شوز تیار کیے جاتے ہیں۔













