وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی دھرنا کمیٹی سے براہِ راست ملاقات اور کامیاب مذاکرات کے بعد بی اے مال کے قریب جاری دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔
وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، سینیٹر منظور کاکڑ اور کمشنر کوئٹہ شاہ زیب کاکڑ کے ہمراہ دھرنا مقام پہنچے، جہاں انہوں نے دھرنا کمیٹی اور شہداء کے لواحقین سے تفصیلی ملاقات کی۔ اس سے قبل صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کی سربراہی میں دھرنا کمیٹی سے مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا۔
مذاکرات کے دوران وزیراعلیٰ بلوچستان کی درخواست پر دھرنا کمیٹی اور شہداء کے لواحقین نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
یہ بھی پڑھیے وزیراعظم سے گورنر بلوچستان کا ٹیلیفونک رابطہ، ہنہ اوڑک حملے پر فوری اقدامات پر زور
اس موقع پر وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ وہ دھرنے کے پہلے روز سے ہی کمیٹی کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا تعلق نہ صرف مظاہرین بلکہ ان کے بزرگوں سے بھی رہا ہے اور آئندہ بھی برقرار رہے گا۔
انہوں نے کہا، ’میں اپنی عوام کے شانہ بشانہ تھا، ہوں اور ہمیشہ رہوں گا۔ اگر حکومت سے کوئی غلطی ہوئی تو ہم اسے تسلیم کریں گے۔ میرے دروازے اپنی عوام کے لیے ہر وقت کھلے ہیں۔‘
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ آج وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کی موجودگی میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں اور بطور وزیراعلیٰ اور چیف آف بگٹی وہ اپنے تمام وعدوں پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔
یہ بھی پڑھیے زیارت کلیئرنس آپریشن میں 15 دہشتگرد ہلاک، 9 پولیس اہلکار شہید
میر سرفراز بگٹی نے اعلان کیا کہ شہداء کے ورثاء کو مالی معاوضہ، سرکاری ملازمتیں اور ان کے بچوں کو تعلیم کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ بہادر سکیورٹی اہلکاروں کی شہادت کے بعد ایک منظم سازش کے تحت ریاست کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم ایسے عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے دھرنے کے شرکاء کو محب وطن قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملک اور بلوچستان کے خلاف ہونے والی سازش کو ناکام بنانے میں ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ سرزمینِ پاکستان کے خلاف ہونے والی ہر سازش کو ناکام بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔














