امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اب جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت سے محروم ہو چکا ہے اور اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس بیان نے امریکا کی ایران کے خلاف جنگ کے اصل مقصد، اس کے جواز اور حاصل ہونے والے نتائج پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں، کیونکہ واشنگٹن اس سے قبل تہران کے جوہری مواد کے خاتمے اور نئے معاہدے کو جنگ کے بنیادی اہداف میں شامل کرتا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری میں ایران کے خلاف جنگ شروع کرتے وقت تہران کے مبینہ جوہری خطرے کو بنیادی وجہ قرار دیا تھا، تاہم اس مؤقف میں ابتدا ہی سے تضاد موجود رہا ہے، کیونکہ وہ اس سے پہلے کئی ماہ تک دعویٰ کرتے رہے تھے کہ ایران کا جوہری پروگرام پہلے ہی ’مکمل طور پر تباہ‘ کیا جا چکا ہے۔
جنگ شروع ہونے سے صرف 2 ہفتے قبل بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ جون 2025 میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایران کے پاس جوہری ہتھیار بنانے کی ’ممکنہ صلاحیت‘ بھی باقی نہیں رہی۔
اب جب کہ ٹرمپ ایک ایسی جنگ سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں جو امریکا میں خاصی غیر مقبول ہو چکی ہے، وہ ایران کے جوہری خطرے کی موجودہ صورتحال سے متعلق مزید متضاد بیانات دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے پاس ایران کے معاملے میں محدود آپشنز، ہر آپشن بھاری قیمت وصول کرے گا
4 ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی جنگ، جس میں امریکا اور عالمی معیشت کو بھاری اخراجات کا سامنا کرنا پڑا، کا بنیادی مقصد ایران کے جوہری مواد کا خاتمہ اور ایسا معاہدہ حاصل کرنا تھا جس کے ذریعے تہران کو مستقبل میں جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جا سکے۔
تاہم اب ٹرمپ کا کہنا ہے کہ جنگ پہلے ہی کامیاب ہو چکی ہے، کیونکہ ایران کو پہلے ہی ’جوہری صلاحیت سے محروم‘ کر دیا گیا ہے۔
ان کے مطابق ایران کا جوہری پروگرام اب دوبارہ اسی حالت میں پہنچ چکا ہے جسے وہ پہلے ’مکمل تباہی‘ قرار دے چکے تھے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران کے ساتھ نیا معاہدہ کرنے کی کوششیں مشکلات کا شکار دکھائی دے رہی ہیں۔
ٹرمپ نے بدھ کو ترکیہ میں نیٹو اجلاس کے دوران کئی بار اس مؤقف کا اظہار کیا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایران کے خلاف جنگ ’حکمت عملی کے اعتبار سے تعطل‘ کا شکار ہو گئی ہے تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ ایسا نہیں ہے کیونکہ یہ جنگ پہلے ہی کامیاب ہو چکی ہے۔
انہوں نے کہا، ’میں وہاں صرف ایک مقصد کے لیے گیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ میں اسے ایران کو جوہری صلاحیت سے محروم کرنا کہتا ہوں، اور یہ ہو چکا ہے۔ وہ کبھی جوہری ہتھیار نہیں بنا سکیں گے۔‘
یہ بھی پڑھیے آبنائے ہرمز دوبارہ بند ہوئی تو امریکی معیشت کو بڑا دھچکا لگ سکتا ہے، ماہرین کا انتباہ
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کا جوہری مواد اب پہاڑوں کے اندر اتنی گہرائی میں موجود ہے کہ اسے حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے پاس نگرانی کی جدید صلاحیتیں موجود ہیں اور وہ سیٹلائٹ اور کیمروں کے ذریعے جوہری تنصیبات کی نگرانی کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا، ’کوئی راستہ نہیں کہ ان کے پاس جوہری ہتھیار ہو سکیں۔‘
ایک اور تقریب میں جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ امریکا ایران کا جوہری مواد کیسے حاصل کرے گا تو انہوں نے جواب دیا کہ امریکا دراصل پہلے ہی اسے اپنے کنٹرول میں لے چکا ہے۔
ٹرمپ نے کہا، ’ہم پہلے ہی جوہری مواد حاصل کر چکے ہیں، کیونکہ وہ بہت گہرائی میں دفن ہے۔ امریکا کے علاوہ کوئی اسے حاصل نہیں کر سکتا۔‘
انہوں نے مزید کہا، ’وہ اسے حاصل نہیں کر سکتے۔‘
ٹرمپ نے جنگ کو ’بہت بڑی کامیابی‘ قرار دیا۔
جنگ کے اصل جواز پر نئے سوالات
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ بیانات اس بات کا اشارہ ہو سکتے ہیں کہ امریکی انتظامیہ ایران جنگ سے نکلنے کی تیاری کر رہی ہے، حالانکہ اس کے بنیادی اہداف مکمل طور پر حاصل نہیں ہوئے۔
امریکی انتظامیہ مسلسل یہ کہتی رہی تھی کہ ایران کے جوہری مواد کا خاتمہ ضروری ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے صرف 6 ہفتے قبل اسے ایک ’سرخ لکیر‘ قرار دیا تھا۔
تاہم ٹرمپ اس کے برعکس یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ شاید یہ ضروری نہیں، کیونکہ ایران کا جوہری مواد ایسی جگہ موجود ہے جہاں تہران کی رسائی ممکن نہیں اور ان مقامات کی خلا سے نگرانی کی جا سکتی ہے۔
یہ صورتحال جنگ شروع کرنے کے ابتدائی جواز پر بھی سوالات اٹھا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر ایران کا جوہری پروگرام پہلے ہی تباہ ہو چکا تھا تو پھر جنگ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ٹرمپ انتظامیہ کی جنگی پالیسی کے اہداف بھی وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے رہے۔ ابتدا میں ٹرمپ نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کا بھی عندیہ دیا تھا، تاہم بعد میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض اہم ایرانی رہنماؤں کو ہلاک کر کے یہ مقصد حاصل کر لیا گیا، حالانکہ سیاسی ماہرین کے مطابق حکومت کی تبدیلی اس سے کہیں زیادہ وسیع عمل ہوتا ہے۔
جنگ کے نتائج اور اخراجات
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ واقعی جنگ ختم کرنے کی جانب بڑھ رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ امریکا اپنے زیادہ تر اہداف حاصل کیے بغیر جنگ سے نکل رہا ہے۔
اس جنگ میں امریکی فوج کے 13 اہلکاروں کی جانیں ضائع ہوئیں، جبکہ عالمی معیشت کو بھی شدید جھٹکوں کا سامنا کرنا پڑا۔
اس کے علاوہ ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنے اثر و رسوخ کا عملی مظاہرہ کیا، جو مشرق وسطیٰ اور عالمی توانائی کی صورتحال کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ کا سب سے بڑا نتیجہ شاید ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن اور آبنائے ہرمز کی اہمیت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔














