بھارت کے شہر ایودھیا میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت تعمیر کی جانے والی مسجد کے منصوبے کو مالی وسائل کی کمی کے باعث نمایاں طور پر محدود کر دیا گیا ہے۔ منصوبے کی نگرانی کرنے والے ادارے کے حکام کا کہنا ہے کہ مسلم برادری کی جانب سے توقع کے مطابق مالی تعاون نہ ملنے کے باعث ابتدائی منصوبہ ترک کرنا پڑا۔
ایودھیا کئی دہائیوں سے مذہبی تنازع کا مرکز رہا ہے۔ سن 1992 میں ایک ہندو ہجوم نے 16ویں صدی کی تاریخی بابری مسجد کو منہدم کر دیا تھا، جس کے بعد ملک بھر میں ہونے والے فسادات میں تقریباً 2 ہزار افراد کی جانیں ضائع ہوئیں، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: بابری مسجد کی شہادت کو 33 سال مکمل، زخم آج بھی تازہ
بھارت کی سپریم کورٹ نے 2019 میں متنازع مقام ہندو فریق کے حوالے کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ مسلمانوں کو مسجد کی تعمیر کے لیے متبادل زمین فراہم کی جائے۔ اس مقصد کے لیے انڈو اسلامک کلچرل فاؤنڈیشن قائم کی گئی تھی۔
فاؤنڈیشن کے چیئرمین ظفر احمد فاروقی نے بتایا کہ منصوبے کے لیے مطلوبہ چندہ جمع نہیں ہو سکا، جس کی وجہ سے اب پہلے سے کہیں چھوٹی مسجد تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق ابتدائی منصوبے میں مسجد کے ساتھ 300 بستروں پر مشتمل جدید اسپتال اور ایک کتب خانہ بھی شامل تھا، تاہم فنڈز کی کمی کے باعث یہ منصوبہ قابلِ عمل نہیں رہا۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد سکھ ریاست بناکر رام مندر کی جگہ بابری مسجد تعمیر کریں گے، گرپتونت سنگھ پنوں
فاؤنڈیشن کے سیکریٹری اطہر حسین کے مطابق نئی اور نسبتاً چھوٹی مسجد کی تعمیر پر تقریباً 3 سے 5 کروڑ بھارتی روپے لاگت آئے گی، جبکہ اب تک صرف ڈیڑھ کروڑ بھارتی روپے کے عطیات جمع ہو سکے ہیں۔
دوسری جانب اسی مقام پر تعمیر کیے گئے رام مندر میں عطیات میں مبینہ خردبرد کے الزامات سامنے آنے کے بعد مندر کے ٹرسٹ کی قیادت میں حال ہی میں تبدیلی کی گئی ہے۔ یہ معاملہ بھی اتر پردیش میں آئندہ ہونے والے انتخابات سے قبل سیاسی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔














