ایران نے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی، ہم نے رضا مندی ظاہر کردی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

جمعہ 10 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کی جانب سے درخواست موصول ہونے کے بعد امریکا نے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اب ختم ہو چکی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکا سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی درخواست کی، جسے واشنگٹن نے قبول کر لیا ہے۔

تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا نے ایران کو دو ٹوک الفاظ میں آگاہ کر دیا ہے کہ جنگ بندی اب برقرار نہیں رہی۔

یہ بھی پڑھیں:نیٹو سربراہی اجلاس، صرف 48 گھنٹوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی سفارت کاری کا رخ بدل دیا

ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ’اسلامی جمہوریہ ایران نے ہم سے مذاکرات جاری رکھنے کی درخواست کی ہے۔ ہم نے اس پر رضامندی ظاہر کر دی ہے، لیکن امریکا نے انہیں کسی بھی ابہام کے بغیر واضح کر دیا ہے کہ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے۔ اس معاملے پر توجہ دینے کا شکریہ۔‘

یہ بیان امریکا اور ایران کے درمیان دو روز تک جاری رہنے والی شدید فوجی جھڑپوں کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں دونوں جانب جانی نقصان ہوا اور خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔ حالیہ حملوں نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑے علاقائی بحران کے خدشات کو بھی جنم دیا ہے۔

دوسری جانب قطر نے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق قطری مذاکرات کار تہران پہنچ چکے ہیں تاکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی عمل کو دوبارہ فعال بنایا جا سکے اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کی راہ ہموار کی جا سکے۔

مزید پڑھیں:2 روزہ خونریز جھڑپوں کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان بندوقیں خاموش، سفارتی کوششیں دوبارہ تیز

ادھر حالیہ تنازع کے باعث آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔ یہ آبی گزرگاہ دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے اور وہاں نقل و حمل میں کمی نے عالمی توانائی کی منڈیوں پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں، جو پہلے ہی سپلائی کے مسائل سے دوچار ہیں۔

اس کے ساتھ ہی اسرائیل اور لبنان کے درمیان بھی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب اسرائیلی فوج نے لبنان کے مختلف علاقوں میں متعدد ڈرون اور فضائی حملے کیے، جس سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

اگرچہ صدر ٹرمپ کے بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے، تاہم ان کا یہ کہنا کہ ’جنگ بندی ختم ہو چکی ہے‘ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ موجودہ صورتحال نہایت نازک اور غیر یقینی ہے۔

تاحال واشنگٹن اور تہران کی جانب سے مجوزہ مذاکرات کے وقت، مقام یا ایجنڈے کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں، جبکہ عالمی برادری خطے میں جاری سفارتی اور عسکری پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

محسن نقوی کا لاہور ایئرپورٹ کا اچانک دورہ، امیگریشن کاؤنٹرز مکمل کھلے رکھنے کا حکم

80 برس کی عمر میں عالمی اعزاز، چینی مصورہ کائی گاؤ نے تاریخ رقم کردی

بی جے پی کی اوچھی حرکتیں: جھارکھنڈ میں احتجاج کے دوران اسٹوڈنٹ لیڈر نیہا بورا پر سیاہی پھینک دی گئی

عالمی یومِ مقامی اقوام، پاکستان کا حقوق اور روایات کے تحفظ کے عزم کا اعادہ

جھارکھنڈ پیپر لیک اسکینڈل: حکومت پردہ پوشی کرتی رہی، طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کر گیا

ویڈیو

آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران اور عمان معاہدے کے قریب، تہران نے امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کی شرط رکھ دی

اگر عام آدمی کا احتساب ہوتا ہے تو وزرا بھی قانون سے ماورا نہیں، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

کشمیری پاکستان کے مالک ہیں، مسلم لیگ (ن) کو دو تہائی اکثریت دلائیں گے، رانا ثنا اللہ کا ضلع باغ میں جلسہ عام سے خطاب

کالم / تجزیہ

فیض، سیالکوٹ اور کرکٹ

پرانی کتابوں کا اتوار بازار

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں