نسلہ ٹاور کا نام سنتے ہی آج بھی بہت سے کراچی والوں کے ذہنوں میں وہ مناظر تازہ ہو جاتے ہیں، جب 28 جون 2021 کو اُس وقت کے چیف جسٹس گلزار احمد نے شاہراہِ قائدین پر قائم اس رہائشی عمارت کو گرانے کا حکم دیا تھا۔ کئی خاندان، جنہوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی لگا کر یہاں گھر خریدے تھے، اچانک بے یقینی کے اندھیروں میں ڈوب گئے۔
24 نومبر 2021 کو مقامی انتظامیہ نے سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے نسلہ ٹاور کو مسمار کر دیا۔ بلڈوزروں کے شور اور گرتی ہوئی دیواروں کے درمیان نہ صرف ایک عمارت زمین بوس ہوئی بلکہ سینکڑوں خواب بھی ملبے تلے دب گئے۔ ان خاندانوں کے لیے یہ صرف اینٹوں اور سیمنٹ کا ڈھانچہ نہیں تھا، بلکہ ان کی برسوں کی محنت، امیدوں اور مستقبل کا سرمایہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت نے نسلہ ٹاور سے متعلق سپریم کورٹ کے 2018 اور 2019 کے احکامات واپس لے لیے
کراچی کی معروف بلند و بالا عمارت نسلہ ٹاور کے انہدام نے نہ صرف سینکڑوں خاندانوں سے ان کا گھر چھین لیا بلکہ شہر بھر میں ایک ایسی بحث چھیڑ دی، جو آج بھی ختم نہیں ہو سکی۔ اب، کئی برس بعد، وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) کے ایک اہم فیصلے نے اس مقدمے کو ایک نئی سمت دے دی ہے۔
وفاقی آئینی عدالت نے جمعہ کے روز سپریم کورٹ کے 2018 اور 2019 کے ان احکامات کو واپس لے لیا، جن کے تحت نسلہ ٹاور کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے مسمار کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی کرنا عدلیہ نہیں بلکہ صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ عدلیہ کا کام صرف اپنے سامنے آنے والے تنازعات کا فیصلہ کرنا ہے، جبکہ انتظامی معاملات میں غیر ضروری مداخلت آئینی حدود سے تجاوز کے مترادف ہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ سپریم کورٹ نے نسلہ ٹاور کیس کی سماعت کے دوران غیر قانونی تعمیرات سے متعلق ایسے وسیع احکامات جاری کیے جو زیرِ سماعت معاملے کے دائرہ کار سے باہر تھے۔
ایف سی سی نے مزید قرار دیا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کی رپورٹس کی بنیاد پر کسی عمارت کو گرانے کا حکم دینا کافی نہیں، بلکہ ہر کارروائی کے لیے قانونی تقاضے پورے کرنا اور تمام متاثرہ فریقین کو منصفانہ سماعت کا حق دینا ضروری ہے۔ عدالت کے مطابق، آئین ہر شہری کو شفاف قانونی کارروائی اور ‘ڈیو پراسس’ کی ضمانت دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: نسلہ ٹاور کیس: عدالت نے سابق ڈی جی ایس بی سی اے منظور کاکا سمیت تمام ملزمان کو بری کردیا
عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ اس کا مقصد غیر قانونی تعمیرات کا تحفظ کرنا نہیں، بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ قانون کی عملداری ہر صورت برقرار رہے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ کراچی میں غیر قانونی عمارتوں کے خلاف کارروائی کے لیے پہلے ہی مؤثر قانونی اور انتظامی نظام موجود ہے اور اس کی نگرانی اور عمل درآمد سندھ حکومت اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔
جسٹس ارشد حسین شاہ نے اپنے اضافی نوٹ میں لکھا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق اور عوامی سہولیات کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔ ان کے مطابق، سرکاری زمینوں اور عوامی مقامات کو تجاوزات اور غیر قانونی تبدیلیوں سے محفوظ رکھنا ناگزیر ہے۔
اس مقدمے کے بعد سپریم کورٹ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور دیگر متعلقہ حکام کے کردار کی تحقیقات کا حکم بھی دیا تھا، جبکہ پولیس نے تعمیرات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزام میں ایس بی سی اے اور ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: نسلہ ٹاور کی زمین فروخت کرکے متاثرین کو رقم ادا کی جائے، سپریم کورٹ
وفاقی آئینی عدالت کے تازہ فیصلے نے ایک مرتبہ پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ اگر غیر قانونی تعمیرات کی ذمہ داری سرکاری اداروں پر عائد ہوتی ہے، تو پھر ان عمارتوں میں رہنے والے عام شہریوں کے نقصان کا ازالہ کون کرے گا؟ کراچی کے باسی آج بھی اس سوال کا جواب ڈھونڈ رہے ہیں۔













